میری پونجی

by Other Authors

Page 312 of 340

میری پونجی — Page 312

یہ 14 جنوری 1997ء کی بات ہے۔اس کے بعد علاج شروع ہوا تا کہ ان دو تین مہینوں کو کچھ وسعت دی جاسکے۔کیونکہ اس سے قبل بھی امی کا ایک کینسر کا اپریشن اور Chemotherapy ہو چکی تھی اس لیے دوبارہ کرناممکن نہ تھا۔اب دماغ کے کسی گوشے میں Secondaires نے سر اُٹھایا اُس کا صرف Radiotherapy ہی طریقہ علاج بچا تھا۔چنانچہ وہ شروع ہو گیا۔اس تمام عرصہ میں امی نے جس حوصلہ اور ثبات قدمی کا نمونہ پیش کیا اُس پر سب ڈاکٹر ز کا یہی کہنا تھا کہ موت کو اس طرح اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر یہ واحد خاتون ہیں جو اس قدر پر سکون ہیں اس ثابت قدمی اور حوصلہ کا کیا راز تھا؟ یہ وہ تو کل تھا جو امی کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا۔۔یہ یقین اور کامل یقین تھا جو راضی برضا آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبدہ سے خوشخبریاں پا کر اور اپنے دل و دماغ پر لا إله إلا الله مُحمد رسُولُ اللہ کا نورسجا کر اس راستے پر چل پڑی تھیں جو اُن کو اپنے پیاروں سے پیارے کی طرف لے کر جارہا تھا۔ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔امی کے ایک طرف ہم تھے جو سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار تھے اور دوسری طرف وہ جو قربانی مانگ رہا تھا۔یہ دو پیار کرنے والوں کے درمیان انوکھی ہی جنگ تھی جس کا مرکز ایک ہی ہستی ، میری امی تھیں۔آخری سانس تک ہم نے جیتنے کی اُمید نہیں چھوڑی تھی۔ہم نے اُسی ہستی کے آگے امی کی زندگی کی بھیک مانگی۔ہم لڑے، ہم روئے ، ہم تڑپے، مگر جیت اُسی لا فانی ہستی کی ہوئی تھی۔امی نے اس تمام عرصے میں نہ ہمارا ساتھ چھوڑا نہ اُس خدا کا۔کبھی کوئی نا اُمیدی کی بات نہیں کی اور نہ ہی اُس ہستی سے ملنے کی امید کو چھوڑا۔کبھی میرا دل چاہتا کہ تھک گئی ہوں گی تو میرے کندھے پر سر رکھ لیں لیکن امی کو خدائے واحد و یگانہ کے سوا اور کسی کے آگے جھکنا منظور ہی نہ تھا۔کسی نے تعویذ دیا کہ آپ بے شک کھول کر دیکھ لیں اس میں کلمہ طیبہ ہی لکھا ہے۔جسم کے ساتھ لگا رہے گا تو بیماری ختم ہو جائے گی ، تو امی نے یہ کہ کر کہ کلمہ تو میری روح پر لکھا ہوا ہے جسم تو مٹی کا ڈھیر ہے۔اپنے ایمان کا ایسا معیار بتلایا کہ جو قابل رشک اور قابل تقلید ہے۔امی کا یہی کامل ایمان تھا جو 29 ستمبر 1997ء کی رات ساڑھے گیارہ بجے امی کو ہمیشہ کیلئے امر کر گیا۔(312)