میری پونجی

by Other Authors

Page 285 of 340

میری پونجی — Page 285

چاکلیٹ پیش کرتا اور کوئی ٹافی۔میں اُن نوجوانوں کو کہتا کہ در حقیقت بھائی جی ہی آپ کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ یہ خیال اُن کے دل میں آیا تھا۔رات جب خاکسارا اپنی ڈیوٹی منتظم طعام گاہ کے بعد بھائی جی کے حجرے میں آتا کہ اُن دنوں اُن کی چار پائی کے نیچے ہی خاکسار اپنا بستر بچھاتا تھا تو بھائی جی گرم دودھ کا پیالہ بھر کے لاتے اور فرماتے: دوتسی روٹی تے کھاندے نہیں، کم از کم اے دودھ ہی پی لو“ میں مذاقا عرض کرتا کہ بھائی جی یہ پیالہ صرف میرے لیے ہے کہ پورے اسلام آباد کیلئے؟ ایسا کریں کہ آپ خود بھی پئیں اور میں انہیں بھی اس ضیافت میں شامل کرتا۔گا ہے لگا ہے اپنے گھر سے قیمے بھرے پر اٹھے منگواتے اور ہم سب کارکنان کو بقول اُن کے بر کی لے لو کے حکم سے نوالے دیتے۔کبھی گھر سے پھل منگواتے اور ہمیں کھلاتے۔الغرض کہ اُن کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہم اُن کی ضیافت سے بھی محظوظ ہوتے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اسلام آباد کے مختلف مقامات اور ائمور کا معائنہ فرماتے ہوئے جب کبھی کچن سے گزرتے تھے تو اُس وقت بھائی جی اُن کو مٹھی بھر بھنے ہوئے چنے پیش کرتے تھے جسے حضور اقدس " بصد شوق قبول فرماتے۔بس اُنکی وہ بے تکلفانہ اور سادہ سی پیش کش اب قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ہے۔پچھلے دواڑھائی سال میں ہمارے بھائی جی کو چند صدمے ایسے برداشت کرنے پڑے جن کا اُن کی طبیعت پر بہت گہرا اثر ہوا۔صبر و استقلال سے وہ انہیں برداشت کرتے رہے۔مگر آخر دل ہی تو تھا ، سنگ وخشت نہ تھا، جو درد سے بھر نہ آتا خصوصاً اپنی نوجوان بیٹی کی پاکستان میں وفات اور پھر چند ماہ بعد اپنے نیک سیرت اور پیارے داماد جناب بشیر الدین احمد سامی کی وفات اُن کیلئے بہت تکلیف دہ تھی۔سامی صاحب میرے عزیز دوستوں اور ساتھیوں میں سے تھے۔ایک روز اُنہی کے (285)