میری پونجی

by Other Authors

Page 284 of 340

میری پونجی — Page 284

بھائی جی کو ایام جلسہ سالانہ سے قریباً چار ہفتے پہلے اسلام آباد بھجوا دیا جاتا جہاں وہ ابتداء میں تنہا ہی استقبال، رہائش، مہمان نوازی اور سٹور کے نمائندہ ہوتے۔دن ہو یا رات وہ اپنی ذمہ داری کو باحسن طور نبھاتے۔سب آنے والے مہمان ، کارکن اُن سے اپنی ضرورت بیان کرتے اور وہ بصد شکر اُسے پورا کرتے۔اُن کا مختصر سا کمرہ، جہاں تقریباً ہر چیز میسر آجاتی ، بہت بڑی نعمت تھا۔اُس حجرہ کی چار پائی پر جماعت کے بڑے بڑے عہدہ دار استراحت فرماتے۔بعد ازاں بھائی جی ہمیں اُن آرام کرنے والے بزرگوں کی باتیں سناتے۔الغرض ایک لمبے عرصے تک وہ جگہ بھائی جی کے نام سے منسوب رہی۔وقت کے ساتھ ساتھ اب اُس جگہ بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں۔مگر جو پرانے بادہ کش ہیں وہ جانتے ہیں کہ اُس جگہ پر کیا کیا پرلطف اور تاریخی حکایات بیان ہوئیں۔وہاں کی مجالس کا نشہ ہی کچھ اور تھا۔قیام اسلام آباد کے دوران نہ صرف مہمان ہی بھائی جی کی خدمت کے معترف تھے بلکہ خدام الاحمدیہ کے وہ نوجوان جو وہاں اُن دنوں مختلف خدمات پر مامور تھے ، بھائی جی کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اُن کی شفقتوں سے بھی وافر حصہ پاتے۔اُن کی محبت کا یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں: ایک رات شدید سردی تھی۔میں بھائی جی کے حجرے میں پڑی ہوئی چار پائی کے نیچے ایک میٹرس پر کمر سیدھی کرنے لیٹ گیا کہ محترم بھائی جی نے فرمایا کہ منصور سو گئے ہو۔“ میں نے نفی میں جواب دیا۔کہنے لگے سردی بہت ہے، ہم یہاں گرم کمرے میں لیٹے ہوئے ہیں اور باہر خدام ڈیوٹی پر ہیں، اُن کی کچھ خدمت کی جائے۔چنانچہ ہم دونوں نے مل کر دودھ پتی کی چائے بنائی اور ساتھ میں انڈے ابالے اور رات کے دو ڈھائی بجے کے قریب ہم نے مختلف مقامات پر خدام کو جب چائے اور انڈے پیش کئے تو اُن نوجوانوں کی خوشی اور مسرت کی حد نہ رہی اور چہروں پر رونق آ گئی۔وہ نو جوان وفور جذبات میں گلے لپٹ لپٹ جاتے۔کوئی بطور شکریہ (284)