میری پونجی — Page 270
پھر ایک دن آپ نے اپنا بستر مجھے ٹھیک کرنے کو کہا۔میں بہت خوش ہوا۔جلدی جلدی بستر ٹھیک کیا۔بستر دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا لگتا ہے تمہاری بیوی تمہارا بستر ٹھیک کرتی ہے۔جب میں بستر ٹھیک کر رہا تھا تو دیکھا کہ آپ نے اپنی پتلون تہ کر کے تکیہ کے نیچے رکھی ہوئی تھی تا کہ اُسکی تہ ٹھیک رہے۔ایک دن میں آپ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا کہ ڈاکٹر عبد السلام صاحب تشریف لائے ، جو بہت خوش نظر آرہے تھے۔آپ نے آ کر چوہدری صاحب کو خوشخبری سنائی کہ ان کو کوئی بہت بڑا اعزاز ملا ہے اور میرے سامنے ہی حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو مضمون تیار کر کے اسی وقت مطلع کیا گیا۔اُس وقت مجھے نوبل انعام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔جب ڈاکٹر صاحب تشریف لے گئے تو پھر چوہدری صاحب نے مجھے نوبل انعام کے بارے میں تفصیل سے ساری بات سمجھائی۔بہت مرتبہ انہوں نے اپنی محبت اور شفقت سے نوازا۔مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی خدمت کرنے کی توفیق دی۔اکثر اُن کے ساتھ ملاقات رہتی۔میرے ہاتھ کے بنے ہوئے پکوڑے اُن کو بہت پسند تھے۔صرف ایک یا دو سے زیادہ نہیں لیتے تھے۔پھر اُن کو وہ پکوڑے پسند تھے جو اچھی طرح مڑ کنے crispy سے بنے ہوئے ہوں۔کبھی کبھی آپ اپنے کسی مہمان کی آمد پر مجھے فرماتے حسن صاحب آج میرے مہمان آ رہے ہیں۔اُن کی خواہش ہے پکوڑے کھانے کی اس لیے آپ پکوڑے بنا کر لے آئیں۔ابا جان فرماتے ہیں کہ حضرت چوہدری صاحب کے ساتھ اکثر ملاقات رہتی لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جو میری زندگی کا یادگار دن بن کر ظاہر ہوا۔آپ فرمانے لگے: د حسن صاحب مجھے علم ہے کہ آپ میرے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں۔آج میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔“ غالباً اسی محبت کے اظہار کی خاطر جب آپ آخری بارلندن سے پاکستان تشریف لے گئے تو اس (270)