میری پونجی — Page 247
پر پہنچے ابھی ہم بس میں بیٹھنے ہی لگے تھے کہ سائیکل پر کوئی نو جوان آیا کہ ہمیں واپس بلایا ہے۔جب بات بنتی دکھائی نہ دی تو آخر یہ طے پایا تھا کہ دعا کر لی جائے۔سچ پوچھیں مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس کس نے کس الحاح سے دعا مانگی ہوگی۔لیکن اگلے روز میرے سامنے نکاح کے فارم رکھ دئے کہ یہاں دستخط کر دو۔مجھے بتایا گیا کہ رات مولانا احمد خاں صاحب نیم کو حضرت رسول کریم ﷺ کی زیارت ہوئی جس وجہ سے اس رشتہ کو با برکت سمجھا گیا۔الحمد للہ۔یقینا یہ رشتہ ہم سب کے لیے بہت با برکت ثابت ہوا۔رشتہ طے ہونے کے بعد ۱۹۳۴ء میں جلسہ سالانہ پر جمعہ کے بعد حضرت خلیفہ المسح الثانی نے نکاح پڑھایا۔آپ نے صرف دو نکاح پڑھائے ایک ہمارا اور دوسرا مرزا مہتاب بیگ صاحب کا۔اس کے بعد بقیہ فارم حضور نے مولانا سرور شاہ صاحب کو دے دیے کہ وہ اعلان فرما ئیں۔ہماری شادی ۱۹۳۵ء میں مجلس شوری کے ایام میں طے پائی۔خاکسار کے خسر حضرت میاں فضل محمد صاحب آف ہر سیاں مجھ جیسے انسان کے لیے یہ بہت بڑی سعادت تھی کہ ایک صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی میرے عقد میں آئے۔آپ نے جو برکات و فیوض حضور اقدس سے پائے ان میں سے اس عاجز کو بھی حصہ ملا۔الحمد للہ علی ذالک۔آپ اپنے بچوں سے بڑھ کر خاکسار سے پیار کرتے تھے۔آپ کی وفات کے وقت خاکسار نیروبی میں تھا جبکہ دیگر عزیز واقارب آپ کے پاس موجود تھے۔میری اہلیہ نے مجھے بتایا کہ جب بھی میں آپ کے پاس جاتی تو آپ کا ضرور پوچھتے کہ بچے کی کوئی خیر خبر آئی ہے، وہ تو بہت دور چلا گیا ہے۔پھر عاجز کی تصویر منگوا کر کافی دیر اپنے سینہ سے لگارکھی اور دعائیں دیتے رہے۔ایسی محبتیں نصیبوں سے ملتی ہیں۔مجھے بھی آپ سے عجیب سی محبت ہوگئی تھی۔جب پارٹیشن ہوئی تو آپ نے خاکسار کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی۔اسوقت آپ کافی ضعیف ہو چکے تھے۔لڑکوں میں پاکستان کا طویل سفر بہت تکلیف دہ تھا۔خاکسار کو خیال آیا (247)