میری پونجی — Page 243
احمدیوں کے بھی متعدد گھرانے تھے۔اُن میں سے ایک دوست میاں نور محمد صاحب جلد ساز کی مشہور و معروف شخصیت تھی اور وہ حکومت کے رجسٹر ڈ جلد ساز تھے۔اس وجہ سے حکومت کے رجسٹروں اور کتابوں کی جلد بندی کا کام ان کے سپر دتھا۔اُن کا اپنا مکان تھا جو دو منزلہ تھا۔شام کے وقت بالا خانہ کی چھت پر تبلیغی مجلسیں موسم گرما میں قائم ہوتیں۔ان کے بڑے بیٹے میاں غلام نبی صاحب اور محمد حسن صاحب بھی اپنے باپ کے کام میں جلد سازی میں شریک تھے۔شہر میں ان کی دوکان بھی تھی۔خاکسار کا جتنا عرصہ لدھیانہ میں قیام رہا، بالعموم روزانہ بعد نماز مغرب میاں نور محمد صاحب کے مکان پر تبلیغی مجالس کا انعقاد ہوتا رہا۔روزانہ ہی کوئی نہ کوئی غیر احمدی مولوی یا ان کے مدرسوں کا کوئی طالب علم شریک ہوتا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس وقت کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔مکان کے بالا خانہ کی اوپر کی چھت پر اپنے اور غیر از جماعت احباب جمع ہوتے اور سوال وجواب کی مجلس قائم ہوتی۔ڈیڑھ دو ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔بعض اوقات اگر مجھے اس جگہ پہنچنے میں دیر ہو جاتی تو ویکفیلڈ گنج کے نوجوان لیمپ لے کر شام کے وقت صوفی صاحب کے مکان پر آکر مجھے لے جاتے۔ان تبلیغی مجالس کی وجہ سے لمبا عرصہ کے قیام لدھیانہ سے اس شہر کے احمدی احباب سے بالخصوص گہر ا موانست کا تعلق پیدا ہو گیا۔مجھے ہمیشہ اس بات سے خوشی ہوئی اور مسرت رہی کہ اس عاجز کی تقرری اور تبلیغی جدوجہد کا آغاز اس شہر سے ہوا جہاں بیعت کا آغاز ہوا۔ولله الحمد خاکسار نے اپنے لیے اس شہر میں تقرری کو مبارک فال گردانا۔متعدد مرتبہ دار البیعت میں جانے ، نمازیں ادا کرنے اور ذکر الہی کرنے کی توفیق پا تا رہا۔لدھیانہ سے سلسلہ کی بہت سی روایات وابستہ ہیں۔حضرت مسیح موعود کا یہاں متعدد مرتبہ قیام، (243)