میری پونجی — Page 241
پر لڑکی والوں کے گھر سراسیمگی پھیل گئی اور استقدر رعب پڑا کہ رات کو ان کی طرف سے ایک وفد آیا جس نے میرے والد صاحب کو کہا کہ نور محمد آپ کوئی حرجانہ وغیرہ کا مقدمہ تو نہیں کرنے والے۔والد صاحب نے ان کو تسلی دی کہ ہمارا کوئی ایسا ارادہ نہیں۔اس انکار پر شادی تو ختم ہوگئی مگر پورے شہر میں یہ بات عام ہوئی اور احمدیت کی تبلیغ کا سبب بنی۔جب یہ بات جماعت میں پھیلی تو خدشہ کا اظہار کیا گیا کہ کہیں غیر از جماعت مل کر مجھے مجبور نہ کر دیں اس لیے بھی تشویش تھی کہ میں نیا نیا احمدی ہوا ہوں، کہیں کمزوری ایمان کا مظاہرہ نہ کر دوں۔میں نے دوستوں کو سمجھایا بھی کہ اگر کمزوری دکھانی ہوتی تو اس وقت دکھا دیتا جس وقت لڑکی کے باپ نے پگڑی میرے پاؤں پر رکھی تھی۔پھر یہ بھی بات سامنے آئی کہ کہیں سوتے میں میرا انگوٹھا لگوا کر مشہور نہ کر دیا جائے کے میں نے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔بہر حال دوستوں کے مشورہ سے مجھے اُسی رات باؤ رحمت اللہ صاحب کے بیٹے غلام ربی صاحب کے گھر بھجوادیا گیا۔الحمد للہ کہ اللہ نے اپنے فضلوں سے احمدیت پر قائم رہنے کی توفیق سے نوازا۔اگر چہ ہمارے گھر میں احمدیت تو پہلے بھی تھی لیکن میرے احمدی ہونے سے نیز شادی سے انکار پر ایک ہیجان سا پیدا ہو گیا۔غیر از جماعت دوستوں، عزیزوں پر گہری چوٹ لگی جس پر ہمیشہ کیلئے ان سے دوری کے سفر کا آغاز ہوا۔دوسری جانب جماعت کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ قرب کی راہیں کھلنے لگیں۔احباب جماعت میں یہ بات بڑی عزت کا مقام رکھتی تھی کہ اتنی مخالفت کے باوجود یہ نواحمدی اپنے ایمان پر قائم رہا۔اس طرح غیر از جماعت کے ہر گھر میں اس بات کا چرچا ہونے لگا بلکہ لوگ مجھے دیکھنے کی خواہش رکھتے اور انگلیاں اٹھاتے کہ یہ وہ لڑکا ہے جس نے اپنے مذہب سے باہر شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔(241)