میری پونجی — Page 184
امتہ الباری ناصر صاحبہ کا لکھا ہوا ایک خواب جس نے میرے دل کو چھوا، وہ لکھنے لگی ہوں ! میں نے دیکھا ہے کہ تم پیار سے کہتے ہو مجھے جان من کیا ہوا کس بات پہ افسردہ ہو کونسا غم ہے جو اندر سے تمہیں کھاتا ہے ، کس نے توڑا ہے کوئی مان جو رنجیدہ ہو قہقہے، شوخی، مزاح بھول گئی ہو یکسر کیا ہوئی زندہ دلی کس لیے پڑ مردہ ہو بات بے بات اُچھل آتے ہیں کیسے آنسو موسم گل میں بھی خاموش ہو آزردہ ہو کس کے لہجے کی تپش نے تمہیں جھلسایا ہے ڈس گیا کونسا دکھ درد جو سنجیدہ ہو اپنی ہی ذات میں کیوں قید کیا ہے خود کو لگتا ہے برسوں کی بیمارستم دیدہ ہو؟ میرا یہ خواب فقط خواب ہی رہ جائے گا خوشیاں تو اس سے ملا کرتی ہیں جو زندہ ہو ایک پتھر ہے جو سینے سے لگا رکھا ہے خود تو زخمی ہوں کوئی اور نہ زخمیدہ ہو (184)