میری پونجی — Page 174
کچھ تعزیت نامے سامی صاحب کی وفات پر تعزیت کے بہت خطوط آئے۔وہ سارے تو میں یہاں نہیں لکھ سکتی لیکن چند ضرور لکھنا چاہتی ہوں۔چودھری عبدالمجید صاحب سابق قائد کراچی سے تحریر فرماتے ہیں: 814/8 عزیز آباد کراچی، پاکستان بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم عزیزه محترمہ بیگم بشیر الدین احمد سامی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط مورخہ 28/8/2001 پرسوں بروز ہفتہ ملا۔جواب تو میں اُسی وقت لکھنا چاہتا تھا مگر قلم ساتھ نہیں دے رہا تھا۔آج سب سے پہلا کام یہی خط لکھ رہا ہوں تا کہ مزید دیر نہ ہو جائے۔مجھے آپ کے غم اور مرحوم بھائی کی جدائی کا صدمہ بہت جانکاہ ہے۔مگر حضرت مسیح موعود کی زبان سے جو اپنے بیٹے مبارک احمد کی وفات پر کلمہ نکلا، اُسی کو دہراتے ہوئے دلی تعزیت کرتا ہوں۔بلانے والا ہے سب سے پیارا، اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر مرحوم سامی صاحب دینی اور دنیاوی لحاظ سے ایک مثالی انسان تھے۔وہ ایک کم گو ، ہنس مکھ، ہمدرد اور دوستوں کے دوست تھے۔اسکے ساتھ بہت مخلص اور خدمت دین کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے۔میں جب خدام الاحمدیہ کراچی کا قائد تھا تو وہ میرے دست راست معتمد کے طور پر خدمت دین میں میرے معاون و مددگار رہے۔چنانچہ جن دوسالوں میں خاکسار قائد رہا اُن دونوں سالوں میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی سفارش پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے دست مبارک سے جلسہ سالانہ پر علم انعامی حاصل ہوتا رہا۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس اعزاز میں مرحوم بھائی سامی صاحب کی محنت، کوشش اور والہانہ خدمت کا خاصا حصہ تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا کہ مولا کریم مرحوم بھائی کی مغفرت فرمائے۔جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور (174)