میری پونجی — Page 155
چاہتے تھے۔میں نے سامی صاحب کو کہا اب میں بہت تھک گئی ہوں، یہ گھر میرا مستقل گھر ہے۔اب میں زندگی بھر یہاں سے نہیں جاؤں گی۔سامی صاحب کو ریلوے میں کام مل گیا بچے بھی بڑے ہو رہے تھے۔میں اور سامی صاحب دس سال کے بعد دو چھوٹے بچوں کے ساتھ 1983 ء کے سالانہ جلسہ پر ربوہ بھی گئے اور سامی اپنے اباجی اور بہن بھائیوں کو بھی مل کر آئے۔یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کے اس دوران میرا بھائی اور امی جان بھی لندن آچکے تھے۔میری تین بہنیں پاکستان میں تھیں لیکن اگر ماں باپ اور بھائی پاس ہوں تو باقی کمی اتنی نہیں رہتی اور خالد میرے بھائی کی شادی بھی ہو گئی۔یہ سب مسجد کے قریب ہی رہتے تھے جب کہ ہم کافی دور تھے۔پھر بھی بچوں کا اکثر آنا جانا ہو جاتا تھا۔1984 ء میں مجھے اچھی طرح یاد ہے جب پیارے آقا حضور خلیفتہ المسیح الرابع ” ہجرت کر کے لندن تشریف لائے تو ہم مسجد سے کافی دور رہتے تھے۔حضور کے آنے سے حضور کے خطبات اور مجلس عرفان اور اس قسم کے بے شمار پروگرام ہوتے تھے جن سے ہم محروم رہتے تھے۔ایک دن سامی صاحب نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر ظفر صاحب نے خالد کو اپنے فلیٹ کی آفر کی ہے جو اُس نے انکار کر دیا ہے۔کیا تم مسجد کے قریب جانا چاہتی ہو کیونکہ ہم اور بچے دینی ماحول سے دور ہیں اور حضور کے تمام خطابات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔اور ہاں یہ بھی ساتھ بتا دیتا ہوں وہ گھر پرانا ہے اور کوئی وہ سہولت اُس میں موجود نہیں ہے جو اس وقت تمہارے پاس ہے۔سچ پوچھیں میں تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی ، یہ اُس گھر کی بات کر رہے تھے جو پوری زندگی کے بعد میری پسند کا گھر ملا، بالکل نیا بنا ہوا گھر۔نئے کارپٹ ، نیا کچن بہت ہی پیارا گھر اور پھر بہت دکھوں کے بعد ملا، اب پھر گھر چھوڑنے کی بات اور جب مسجد کا سوچتی تو اور پریشان ہو جاتی۔آخر میں نے کچھ دن کی مہلت مانگی دعا استخارہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو گئی اور پھر ہم نے وہ گھر جو مجھے بہت عزیز تھا چھوڑ دیا اور اُس گھر میں آگئے جس میں وہ کچھ بھی نہیں تھا جو میں چھوڑ کر جا رہی تھی۔ہم مسجد کے بالکل قریب (155)