میری پونجی

by Other Authors

Page 154 of 340

میری پونجی — Page 154

ہونے کا وقت نہیں آیا تھا ہم بے شک لیگل ہو گئے تھے مگر جس علاقہ میں ہم آکر بسے تھے انہوں نے ہمیں بالکل قبول نہ کیا اور ہمارے لئے مشکلوں کے پہاڑ کھڑے کر دیے۔ہر روز ہماری کار کے شیشے توڑ جاتے ہمارے گھر کی کھڑکیاں توڑ جاتے۔سامی صاحب کا گھر سے نکلنا مشکل کر دیا۔ہمارے گھر کوئی مہمان نہیں آسکتا تھا۔ایک دفعہ تو ہمارے مہمان کو زخمی بھی کر دیا۔یہ زیادتیاں سفید فام غنڈوں نے پاکستانی کی زندگی اجیرن بنا دی یہاں تک پہنچ گئیں کہ مارچ سے اب تک گیارہ حملے ، پولیس غنڈوں کو پکڑنے میں ناکام، ہمارے گھر کی نیوز لندن - نمائندہ جنگ۔گذشتہ مارح سے مفید کام مقامی پولیس ان منڈوان کی کاروائیوں کو بند کرانے میں ناکام رہی۔نے ایک پاکستان بشیراللہ بن احمد کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ہے اور اس نے ن ہی اس سے میں کوئی گرفتاری کی ہے انگریزی نیوز TV اور بشیر الدین احمد شام سے اپنی بیوی اور اپنے پانچ بچوں کے اب مسٹر بشیر الدین احمد نے ایک نہایت درمندانہ اپیں شیر ساتھ ام یکنفیٹڈ روڈ کینٹنگ ٹاؤن، لندن ای - 14 میں پولیٹن کمشنر آف پولیس سر را بوٹ نیک فی سے کی ہے جبس تقیم ہیں۔اس مدت میں بشیر احمد اسکے معاندان اور ان کی ن انہوں نے کہا ہے کہ وہ اچھی بیوی بچوں کی زندگی اور میں بھی آئی۔پیپر اور اردو پیپر ملاک پر سب لاک 1 تھلے ہو چکے ہیں جنکی تفصیلی اطلاے سکون کی خاطرات پر تم کیا کہ اس سلسہ میں فوری کاروائی بشیر احمد نے چیف الیکٹر پلا سٹو پولیس اسٹیشن، چیف الیکٹر میں کی مگر انہیں اندیشہ ہے کہ اب سفید نام فنڈ سے ان ایک مرته ج ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ر اور دوسرا یہ کہ ہم سب گھر کے نمبر پارلیمنٹ مسٹر نائیجل امسیر زنگ اور اپنے علاقہ سے کونسلر دست پر ان کے مکان کے باہر منہ سے حملہ کر چکے ہیں جس کے میں تھے ستریدی کو دی ہے مگر اس کے باوجود سفید فام غنڈوں کے موں نے خاندان اور انکے خاندان اور انکی املاک مجھے خلاف تخریبی کاروائیوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ابنک ملات ان دونوں کو ہسپتال جانا پڑا تھا۔تو ہمارے لیٹر آگ ڈال بکس میں بچے گئے۔شکر الحمد للہ کہ میں سامنے ہی کھڑی تھی جو فوری آگ دیکھ لی اور میں نے اُس آگ کو بجھایا۔اگر میری نظر نہ پڑتی اور خدانخواستہ جالی کے پردہ کو آگ پکڑ لیتی تو ہمیں باہر نکلنے کو کوئی راستہ نہیں تھا کہ ہم پہلی منزل پر رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں سے ہماری پوری فیملی کو بچالیا۔میں ڈر اور خوف کے مارے ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتی تھی کہ اکثر وہ گینگ رات کو حملہ کرتے تھے۔آخر کونسل اور پولیس والے اس حد سے بڑھتی ہوئی غنڈہ گردی کو کنٹرول نہ کر سکے تو ہمیں پانچ سال کی مشکلات کے بعد وہاں سے دوسرے گھر میں منتقل کر دیا۔اس دوران میری فیملی میں بھی اضافہ ہو چکا تھا یعنی تین کے بجائے اب میرے پانچ بچے ہو گئے تھے۔الحمد للہ۔پھر الحمد للہ ہمارے سکھ کے دن شروع ہو گئے۔بہت اچھا بہت بڑا نیا گھر ہمیں ملا۔میری تمام مشکلوں کا مداوا ہو گیا اور اب ہم تمام پچھلی باتوں کو بھول کر اپنی اور اپنے بچوں کی ترقیوں کا سوچنا (154)