میری پونجی — Page 140
سوچ سمجھ کر غور کیا کہ آج کے بعد میں سالوں میں ہم کس پوزیشن میں ہونگے اور کتنی آمد ہوگی ، ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہوگا۔ان سب سوالوں کے بعد یہی سوچا ملک سے باہر جانے کی کوشش کرنی چاہئے اور پھر سامی صاحب نے اپنے والدین سے اجازت مانگی تو اُنکی والدہ صاحبہ نے کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ میرا کوئی بچہ ملک سے باہر جائے سو ہم نے اپنا ارادہ بدل دیا۔اُن دنوں سامی صاحب ایم اے کی تیاری کر رہے تھے، الحمد للہ ، کامیاب ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد اماں جی وفات پا گئیں۔سامی صاحب کے والد صاحب پشاور ہمارے پاس آئے اور ایک دن سامی صاحب کو بلا کر کہا کہ اگر آپ لوگ ملک سے باہر جا کر اپنی زندگی بنانا چاہتے ہو تو مجھے خوشی ہوگی اور جو مدد میں کر سکتا ہوں وہ ضرور کروں گا۔سو اللہ تعالی کا نام لیکر کوشش شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ نے مدد بھی فرمائی۔سامی صاحب کا پاسپورٹ تیار ہو گیا اور سامی اپنے آفس سے ریٹائر ہونے کی انتظار میں تھے۔ادھر میرے ہاں تیسرے بچے کی ولادت ہونے والی تھی۔میرے بیٹے کی پیدائش کے پورے ایک ماہ کے بعد ہم نے سات سال پشاور میں رہنے کے بعد اُس کو خدا حافظ کہہ دیا اور ربوہ آگئے۔ربوہ میں میری امی جان کے گھر میں ایک کونے میں میرے لیے رہنے کی جگہ بنوائی اور پورے چھ ماہ کے بعد سامی صاحب اُس خطر ناک سفر کے لیے تیار ہو گئے۔جس کا ہمیں ایک ذرہ بھی احساس نہیں تھا کہ ہم کتنی مشکل اور کٹھن راہ پر نکل رہے ہیں۔ربوہ اسٹیشن سے روانگی میں اور میرے بچے اور سامی صاحب کے والد صاحب اُن کو خدا حافظ کہنے کیلئے پشاور تک گئے۔یہ سفر پشاور سے افغانستان ایران سے ہوتے ہوئے بائی روڈ جرمنی تک کا تھا۔کیونکہ آخری منزل جرمنی ہی تھی۔اُس سفر والے دن سامی کو شدید تیز بخار تھا مگر جانا تھا کیونکہ سب کچھ طے تھا۔ہم نے سامی صاحب کو کوچ میں سوار کروا کر اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور پشاور سے واپس اپنے گھر ربوہ آگئے۔سامی صاحب کے جانے کہ بعد احساس ہوا کہ کتنی مشکل را ہیں چنی ہیں ہم نے۔میں تو گھر (140)