میری پونجی — Page 139
پشاور کی جماعتی ذمہ داریوں کا سلسلہ الحمد للہ یہاں پشاور میں بھی خدام الا احمد یہ پشاور کے معتمد مقرر ہوئے۔پشاور کو حلقہ وار منظم کرنے والی ٹیم کے ساتھ بطور جنرل سیکرٹری کام کرنے کا موقعہ ملا۔1969 ء میں قائد مجلس خدام الاحمدیہ مقرر ہوئے اور جماعت احمدیہ پشاور کے سیکرٹری تحریک جدید بھی رہے۔کئی بار وقف عارضی کے لیے پشاور کے قریب قریب شہروں میں بھی جانا ہوتا رہا۔خاص طور پر ٹوپی اور حضرو کے نام مجھے یا درہ گئے ہیں۔سامی صاحب نے جہاں بہت دیانت داری سے اپنی سروس کو نبھایا اور اُتنی ہی لگن اور دلجمعی سے جماعت کی خدمت کرنے کی بھی توفیق ملی اُس کے ساتھ ساتھ اتنی ہی محنت سے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔منشی فاضل ، ادیب فاضل اور بی اے تک تعلیم حاصل کی۔شادی کے بعد ایم اے کیا۔مارچ 1964ء کو ان کی ذاتی زندگی میں میری ذمہ داریاں بھی شامل ہوگئیں اور الحمد للہ ان ذمہ داریوں کو بھی بہت احسن طریقہ سے نبھایا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔آمین۔چونکہ سامی صاحب کی نوکری پشاور میں تھی اس لیے شادی کے بعد میں بھی اُن کے ساتھ پشاور چلی گئی۔اسطرح ہماری نئی زندگی کا آغاز پشاور سے ہوا۔جب ہمارے بچے سکول جانے کی عمر کے ہوئے تو فکر ہوا کہ کیسے سکول میں داخل کریں۔جب سکولوں کا جائزہ لیا تو بہت مایوسی ہوئی ، ہم دونوں میاں بیوی اسی فکر میں رہتے اور روزانہ سکولوں کے بارے میں بات چیت ہوتی ، ارد گرد کے لوگوں کو ملک سے باہر جاتے ہوئے بھی دیکھ رہے تھے۔کیونک ہم پشاور میں تھے۔اکثر لوگ براستہ افغانستان اور ایران باہر چلے جاتے تھے۔ایک دن میں نے دل کی بات کہہ دی کہ کیوں نہ ہم ملک سے باہر جانے کی کوشش کریں۔باہر جانے کی بات شاید اس لیے بھی میرے منہ سے نکل آئی کہ میرے ابا جان اور ددھیال کی ساری فیملی باہر تھی۔اُن سب کے بچوں کو میں نے بہت اچھی تعلیم حاصل کرتے دیکھا تھا، باہر جانے کی بات سامی صاحب کے دل کو بھی لگی۔پھر ہم نے بہت (139)