میری پونجی — Page 137
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عرصہ میں علم انعامی حاصل کرنے کا سہرا وقت کے قائد کے سر ہے۔لیکن یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اس کا بہت بڑا حصہ سامی صاحب کی جد و جہد، ان تھک محنت اور مسلسل تگ ودو کا شامل ہونا رہا ہے۔محترم سامی صاحب کی خوبیاں صرف اسی حد تک محدود نہ تھیں کہ انہوں نے انتظامیہ کو چلانے اور مجلس کو آگے بڑھانے کی لیے محنت سے کام کیا بلکہ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے ایسے مواقع پر جبکہ مجلس کے نہایت اہم کارکن بھی جذبات کی رو میں بہہ جاتے تھے، سیدھے راستہ کیطرف اُنکی رہنمائی کی۔چنانچہ ایک موقعہ پر جبکہ مجلس عاملہ کے اکثر ممبران نے قائد کی ذات پر اُسوقت حملے کرنے شروع کر دیئے تھے۔جبکہ وہ اپنی مدت قیادت ختم کر چکا تھا۔تو اُس وقت صرف سامی صاحب کی وہ واحد ذات تھی جس نے کھڑے ہو کر جذبات کی فروانی کو غلط راستے پر بہنے سے بچا کر مجلس کو ایک ایسی غلط روایت قائم کرنے سے محفوظ کر لیا جو نا معلوم کسقدر چپقلشوں کا دروازہ کھول دیتی۔ان خوبیوں اور ان خدمات کو شمار کرنا جو محترم سامی صاحب میں پائی جاتی ہیں یا اُنہوں نے انجام دی ہیں۔یقیناً کسی فرد واحد کے لیے انتہائی دشوار ہے۔لیکن یہ دو حقیقتیں کہ ان کی خدمات کی وجہ سے مسلسل چار سال معتمد جیسے اہم عہدہ پر برقرار رکھا اور یہ وہی سال ہے جب مجلس کراچی علم انعامی حاصل کرتی رہی۔اور یہ کہ جس سال انکی صحت کے باعث بامر مجبوری یہ قدم اُٹھانا پڑا ، اسی سال مجلس اس انعام کو حاصل نہ کرسکی جسے وہ سالہا سال سے حاصل کرتی آئی تھی۔یہ دو مثالیں اسوقت کی معمولی سی جھلک دکھانے کے لیے کافی ہیں جس پر پہنچنے کی خدا تعالیٰ نے محترم سامی صاحب کو تو فیق دی ہے۔آج جب کہ ہم رسمی طور پر انہیں الوداع کہہ رہے ہیں ہم ایک بار پھر انکے برادر حقیقی کے الفاظ میں ان سے درخواست کرتے ہیں کہ احمدیت کو آج ان دردمند دلوں کی ضرورت ہے جو اپنا سب (137)