میری پونجی

by Other Authors

Page 136 of 340

میری پونجی — Page 136

لمصل ہوئے تھے۔اس شعبہ میں انکی خدمت کے چار سال کا یہ بظاہر کامیاب و کامران دور اپنے اندر اور متعدد تلاطم خیز طوفانوں کو لیے ہوئے ہے۔اور ان کارکنوں میں جنہوں نے ان طوفانوں کا مقابلہ کیا، قائدین کے بعد سامی صاحب کی ذات کو ایک خاص نمایاں مقام حاصل ہے۔اصلح ، کے زمانہ میں جبکہ قائد صاحب کو اپنے وقت اور اپنی توجہ کا ۸۸ فیصدی حصہ اسکی ایڈ منسٹریشن پر خرچ کرنا پڑتا تھا۔سامی صاحب نے اپنی دانشمندی اور فراست کے تحت قائد ، عہدیداران اور عام خدام کے درمیان اس رابطہ کو قائم رکھا۔مجلس کی ترقی کے لیے ضروری تھا اور یہ اس کا ہی نتیجہ تھا کہ کسی نے بھی کبھی بھی ایک دوسرے کا خلا محسوس نہ کیا۔اس دوران وہ واقعہ بھی پیش آیا جسے کوئی احمدی بھی بھی فراموش نہیں کر سکتا۔یعنی حضرت اقدس امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی پر ایک بد بخت نے چاقو سے حملہ کیا۔جس کے نتیجہ میں حضرت اقدس کو یورپ بغرض علاج جانا پڑا۔حضور کی روانگی اور واپسی پر مجلس کے ذمہ ایک اہم ڈیوٹی لگائی گئی تھی اور وہ تمام خدام جن کو اس سعادت میں شرکت کرنے کا موقع ملا تھا، اس بات کے ہمیشہ گواہ رہیں گے کہ راز داری کی وہ امانت جو جماعت نے قائد صاحب کے ذریعہ سامی صاحب کے کندھوں پر ڈالی تھی اُسے انہوں نے کس خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔اس قسم کا ایک آزمائشی دور مجلس پر اُس وقت آیا جب 1955 ء کے آخر میں one unit بن جانے کے باعث کراچی کے وہ کارکن جو سالہا سال سے خدمت کی سعادت حاصل کئے ہوئے تھے لاہور چلے گئے۔اسوقت قائد محترم چوہدری عبدالمجید صاحب کی نئی ذمہ داریوں میں سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والی ہستی سامی صاحب کی ہی تھی۔لیکن سب سے بڑا کارنامہ جو محترم سامی صاحب کے دور خدمت میں شعبہ اعتمادکو سر انجام دینے کا موقعہ ملا۔وہ اس رپورٹ کی تیاری ہے جو محترم قائد صاحب کی زیر ہدایت شعب اعتماد میں تیار کی گئی اور جس کے متعلق حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے فرمایا کہ: ”یہ میرے پروگرام کاcatalogue ہے“۔(136)