میری پونجی

by Other Authors

Page 109 of 340

میری پونجی — Page 109

ساتھی تھے۔مولوی احمد خان نسیم صاحب اور نذیر احمد رحمانی صاحب جو سکول ٹیچر تھے، اب یہ سب میرے رشتہ دار اور اُن کی بیویاں اپنوں سے زیادہ پیار کرنے والی اور ہمدرد اور میرے دکھ سکھ کی ساتھی تھیں۔اماں جی نے ایک اور واقعہ سنایا کہ تمہارے بڑے بھائی کی بسم اللہ کروائی تو حضور خلیفہ المسیح الثانی کو گھر بلوایا کہ وہ بسم اللہ کروائیں۔اُس کے لیے بھائی کو تیار کیا کہ یہ لو ایک روپیہ جب حضور آپ کو پڑھائیں گے آپ نے یہ نذرانہ دینا ہے۔ہوا یہ کہ جیسے ہی حضور تشریف فرما ہوئے بچے نے فورا رو پیز نکال کر حضور کو پیش کر دیا کہ یہ روپیہ آپ لے لیں مجھے پڑھنا نہیں آتا۔اب حضور کی شفقت دیکھیں بچہ کے ہاتھ میں روپیہ پکڑایا اور پیار سے کہا کوئی بات نہیں اگر تمہیں پڑھنا نہیں آتا تو میں سکھاتا ہوں۔پھر بچے نے آرام سے سبق سیکھا۔بڑی بیٹی کی شادی میں بھی اظہار شفقت کرتے ہوئے حضور نے شرکت فرمائی۔کن کن باتوں کا ذکر کروں۔وہ دن ایسے تھے کہ ہماری زندگیاں اب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور حضرت رسول کریم صلی ایتم کی رسالت اور حضرت مسیح موعود کے فرمان اور خاندان حضور خلیفہ اسیح الثانی کی اطاعت اور جاں نثاری میں گزرتی تھیں۔اماں جی مرحومہ رویا ء صالحہ بلکہ کشوف کی نعمت سے بھی بہرہ ور تھیں رویاء میں آنحضرت صلی ا یتیم اور حضرت مسیح موعود کی زیارت سے مشرف ہوتی رہیں۔پھر ایک دم زندگی نے کروٹ بدلی اور ہماری دنیا الٹ پلٹ ہوگئی۔قادیان جو ہماری زندگی تھا، جو ہمارے ارمانوں اور خوشیوں کا گہوارہ تھا، جس کے لیے ہم نے اپنا گھر بار ماں باپ بہن بھائی سب چھوڑے تھے ، وہاں سے ہجرت کر کے نئی دنیا پاکستان میں آکر آباد ہوئے۔ہم اور ہماری طرح ہماری جماعت کے بہت سارے احباب نے چنیوٹ میں ڈیرے ڈال دئے۔اماں جی اور ابا جی نے چنیوٹ میں محلہ گڑھا کو اپنا مسکن بنالیا۔اُس کی خاص وجہ یہ بھی تھی کہ قادیان کے ان احباب سے جو ہمارے دکھ سکھ کے ساتھی تھے، ہم دور نہیں رہ سکتے تھے۔(109)