میری پونجی — Page 108
گئے تو پھر مجھے خط لکھنا آ گیا۔سب سے پہلا خط میں نے حضور کی خدمت میں لکھا۔اُس زمانہ میں لوگ ایک دوسرے سے خط لکھواتے تھے ، میں نے خود لکھا۔حضور نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا تم نے بعد میں آکر اتنا اچھا لکھنا شروع کر دیا۔اس تعریف نے میری مدد کی اور میرے مضمون مصباح میں چھپنے شروع ہو گئے۔جب تمہارے ابا جی جب مبلغ ہو کر انگلستان چلے گئے تو مجھے صرف ہیں (20) روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا جس سے میں نے بچت کر کے دس مرلے زمین خرید کر گھر بنایا اور گھر کی ہر چیز بنائی۔جب تمہارے ابا جی لندن سے واپس آئے تو ہاتھ میں صرف ایک گڑیا پکڑی ہوئی تھی۔میرے منہ سے نکلا آپ تو ایسے لگتا ہے جیسے ساتھ والے گاؤں سے آئے ہیں۔پھر وہ زمین اور مکان بیچ کر محلہ دار الفتوح میں چار کنال زمین خریدی۔دو کنال چھوٹے بھائی (ڈاکٹر سراج الدین ابا جی کے چھوٹے بھائی نے بھی احمدیت قبول کر لی تھی) کو دی اور دو کنال میں ہم نے گھر بنایا۔چونکہ زمینداری میرے خون میں تھی اس لیے ہمیشہ گھر میں دودھ دینے والا جانور رکھا۔پھر مجھے اُس ہندو عورت کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ قادیان نہ جانا وہاں جو جاتا ہے واپس نہیں آتا۔میرے اندر احمدیت ایسے رچ بس گئی کہ اُس کے بعد کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو مجھے پیچھے دیکھنے پر مجبور کرتی۔میں اپنے گھر سے خالی ہاتھ آئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے جہاں دین سے مالا مال کیا وہاں دُنیاوی لحاظ سے بھی کوئی کمی نہیں رہنے دی۔الحمد للہ۔ہم دونوں کبھی واپس اپنے گھروں میں نہیں گئے۔ہم نے کبھی اپنے ددھیال اور تفصیال نہیں دیکھے۔میرے اب تمام رشتے اور بہن بھائی وہی تھے جو میرے قرب جوار میں رہتے تھے ، مثلاً مولوی غلام نبی صاحب ،مصری ، مکرم فضل محمد صاحب ہرسیاں والے، مولوی محمد ابراھیم صاحب بقا پوری، مکرم عبد الرحمن صاحب مہر سنگھ، مکرم عبداللہ صاحب بسمل، مکرم فضل الرحمن صاحب حکیم اور مکرم ابوالعطاء صاحب جیسے بزرگ گھرانے آباد تھے۔یہ سب میرے اپنے تھے جو دکھ سکھ کے بھی (108)