معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 29
29 فی سیکنڈ ہے۔ارشاد فرماتے ہیں:- ای جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براق پر سوار کرایا۔براق برق سے نکلا ہے جس کے معنی میں ملی۔جس کی رفتار 1,86,000 ( ایک لاکھ چھیاسی ات میل فی سیکنڈ ہے۔" (صفحہ 237 )۔ا انہ یہ خیال کس درجہ خوفناک اور ہلاکت آفرین ہے، انہی حضرت کے الفاظ میں سنئے۔کاتے ہیں۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر زمین پر آنے والے شہا بے ہوا کی رگڑ سے بھل جاتے ہیں اور فضا ہی میں بھیم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صیح و سلامت اتنا طویل سفر پنک جھپکنے میں کر سکیں۔( صفحہ 230 ) یا (2363 ONCOLOGIST مترکی کے ایک سکالا جناب ڈاکٹر نور باقی کے جو ایک ہیں ، 1985 ء علی قرآنی آیات اور سائنسی حقائق، لکھی ہے یہ آپ نے حضرت مسیح موعود کے اس دھونی کی آپ کا نام لئے بغیر پریز اور تصدیق کی ہے کہ " ابھی تک سائنس نے جو پرزور ور یافتیں کی ہیں وہ سمندر میں ایک قطرے سے زیادہ نہیں۔" (اردو ترجمہ صفحہ 129 ناشر انڈین پبلشنگ کارپوریشن کراچی اشاعت چہارم 1998 ء ) بایں ہمہ انہوں نے سائنس بھی کو امام و پیشوا بناتے ہوئے سدرہ اکتی اور جنت الماوی کی یہ تعمیر کی ہے کہ جنت میں کشش ثقل یعنی وزن اور جذب ہونے کی خاصیت بہت کم ہے۔جنت میں وقت کا تصور بھی خشش فعل سے اسی طرح مماثلت رکھتا ہے کہ جب ضرورت ہو تو وقت واقعات کے ساتھ ساتھ ہی ہوتا ہے اسی وجہ سے وقت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔(صفحہ 281) ان تمام خیال آرائیوں اور مضحکہ خیز ڈھکونسلوں نے اس دجاتی عقیدہ کو اور بھی بے پناہ تقویت دے دی کہ معاذ اللہ حضرت عیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ تو زمانے کے اثرات سے محفوظ رہ کر دو ہزار سال سے خدا کے داہنے ہاتھ میں بیٹھے