معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 21
21 بات کا مشاہدہ کر رہا ہوں کہ خدا کا الہام جو معارف روحانیہ اور علوم غیبیہ کا ذخیرہ ہے دل پر ہی نازل ہوتا ہے۔بسا اوقات ایک ایسی آواز سے دل کا سر چشمہ علوم ہوتا کھل جاتا ہے کہ وہ آواز دل پر اس طور سے بشدت پڑتی ہے کہ جیسے ایک ڈول زور کے ساتھ ایک ایسے کنویں میں پھینکا جاتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔تب وہ دل کا پانی جوش مار کر ایک غنچہ کی شکل میں سربستہ اوپر کو آتا ہے اور دماغ کے قریب ہو کر پھول کی طرح کھل جاتا ہے اور اس میں سے ایک کلام پیدا ہوتا ہے وہی خدا کا کلام ہے۔پس ان تجارب صحیحہ روحانیہ سے ثابت ہے کہ دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں ہاں اگر دماغ صحیح واقعہ ہوا اور اس میں کوئی آفت نہ ہو تو وہ دل کے علوم مخفیہ سے مستفیض ہوتا ہے اور دماغ چونکہ منیت اعصاب ہے اس لئے وہ ایسی کل کی طرح ہے جو پانی کو کنویں سے کھینچ سکتی ہے اور دل وہ کنواں ہے جو علوم مخفیہ کا سر چشمہ ہے۔یہ وہ راز ہے جو اہل حق سے معلوم کیا ہے جس میں میں خود صاحب تجربہ نے مکاشفات صحیحہ کے ذریعہ << ہوں۔چشمہ معرفت صفحہ 271 طبع اول) ان بصیرت افروز اقتباس کی روشنی میں صاحب المعراج کے احقر الغلمان کا عارفانہ تصور معراج ملا حظہ ہو۔فرمایا :- ا۔سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو در حقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے، پہنچ گئے۔سو در حقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اسد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔میں اس کا نام خواب ہر گز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنی درجوں میں سے