معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 20
20 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا وجد آفریں تصور معراج قبل اس کے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود و مہدی مسعود کے مقدس الفاظ میں تصور معراج پیش کروں، آپ بھی کے قلم سے سائنس، مذہب اور کشف والہام سے متعلق ایک اہم نوٹ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور بروز کامل ہونے کی وجہ سے صاحب تجربہ ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:- یہ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر علم سائنس یعنی طبیعی خدا تعالٰی کے تمام عمیق کاموں پر احاطہ کر لے تو پھر وہ خدا ہی نہیں۔جس قدر انسان اس کی باریک حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے وہ انسانی علم اس قدر بھی نہیں کہ جیسے ایک سوئی کو سمندر میں ڈبویا جائے اور اس میں کچھ سمندر کی پانی کی تری باقی رہ جائے اور یہ کہنا کہ اس کی تمام باریک قدرتوں پر اطلاع پانے کے لئے ہمارے لئے راہ کشادہ ہے اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں۔باوجود یکہ ہزار ہا قرن اس دنیا پر گذر چکے ہیں پھر بھی انسان نے صرف اس قدر خدا کی حکمتوں پر اطلاع پائی ہے جیسا کہ ایک عالمگیر بارش میں سے صرف اس قدر تری جو ایک بال کی نوک کو بمشکل تر کر سکے۔پس اس جگہ اپنی حکمت اور دانائی کا دم مارنا جھوٹی شیخی اور حماقت ہے۔انسان باوجود یکہ ہزار ہا برسوں سے اپنے علوم طبیعیہ اور ریاضیہ کے ذریعہ سے خدا کی قدرتوں کے دریافت کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے مگر ابھی اس قدر اس کے معلومات میں کمی ہے کہ اس کو نا مراد اور نا کام ہی کہنا چاہئے۔صد با اسرار غیبیہ اہل کشف اور اہل مکالمہ الہیہ پر کھلتے ہیں اور ہزار ہا راستباز ان کے گواہ ہیں مگر فلسفی لوگ اب تک ان کے منکر ہیں۔جیسا کہ فلسفی لوگ تمام مدار ادراک معقولات اور تدبر اور تفکر کا دماغ پر رکھتے۔ہیں مگر اہل کشف نے اپنی صحیح رویت اور روحانی تجارب کے ساتھ معلوم کیا ہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دل ہے جیسا کہ میں پینتیس برس سے اس