حضرت میمونہ ؓ — Page 7
حضرت میمونہ تھیں بعض کی عمر ساٹھ سال کو پہنچ چکی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا زیادہ بیویاں کرنے کا یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں دینی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین اُن کو سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔(8) آپ کی بیویوں کے زیورات نہ ہونے کے برابر تھے صحابیات بھی آپ ﷺ کی تعلیم پر عمل کر کے زیور نہ بنواتی۔آپ ﷺ قرآنی تعلیم کے مطابق فرماتے تھے کہ مال کا جمع رکھنا غریبوں کے حقوق تلف کر دیتا ہے۔رہائشی مکان کے متعلق بھی آپ نے سادگی کو پسند کرتے تھے بالعموم آپ اللہ کے گھروں میں ایک ایک کمرہ ہوتا تھا اور چھوٹا سامحن۔اس کمرہ میں ایک ری بندھی ہوتی تھی جس پر کپڑا ڈال کر ملاقات کے وقت میں آپ اللہ اپنے ملنے والوں سے علیحدہ بیٹھ کر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔چار پائی آپ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ زمین پر ہی بستر بچھا کر سوتے تھے۔آپ ﷺ کی رہائش کی سادگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ حضرت عائشہ نے آپ علیہ کی وفات کے بعد فرمایا۔رسول اللہ علی کے زمانہ میں ہمیں کئی دفعہ صرف پانی اور کھجور پر گزارا کرنا پڑتا تھا۔یہاں تک کہ جس دن بھی آپ کی وفات ہوئی اس دن ہمارے گھر میں سوائے