مذہب کے نام پر خون — Page 91
۹۱ مذہب کے نام پرخون کہ یہ منافق یقیناً جھوٹ بولتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ منافق یہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں مگر مولانا مودودی اس عقیدے کے قائل ہیں کہ صداقت کے نام پر بزور شمشیر لوگوں کو جھوٹ بولنے کی تلقین کی جائے۔میں چونکہ اس نظریہ کا قائل نہیں اس لئے مولانا کو مجبور نہیں کر سکتا کہ میری بات مان لیں میرا مذہب تو سیدھا سادھا یہی ہے کہ لکم دینکم ولی دینِ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔ضمناً میں یہاں اس شبہ کا بھی ذکر کر دوں کہ ہو سکتا ہے کہ مولانا یہ فرمائیں کہ اس آیت میں جن منافقین کا ذکر ہے وہ تو سرے سے ایمان ہی نہیں لائے تھے اور مولا نا جن لوگوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں وہ قسم صرف ان منافقین کی ہے جو ایک دفعہ یہ جان بوجھ کر کہ یہ راستہ آمد و رفت کے لئے کھلا ہوا نہیں پھر بھی اسلام لے آئے تو میں مولانا سے درخواست کروں گا کہ مندرجہ بالا آیت قرآنی سے ملی ہوئی انگلی دو آیات پر بھی نظر ڈال لیں تو سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمُ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - ذلِكَ بِأَنَّهُمُ امَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (المنافقون: ۴،۳) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور (اس ذریعہ سے لوگوں کو ) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔یقیناً بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔یہ اس وجہ سے ہے کہ (پہلے تو ) وہ ایمان لائے پھر کافر ہوئے۔اس کے نتیجہ میں ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی پس وہ سمجھتے نہیں۔ان ہر دو آیات کے مضمون سے یہ یقینی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ:۔اول:۔یہ منافقین جن کا ذکر کیا گیا ہے مرتد تھے۔پہلے ایمان لائے اور پھر کافر ہو گئے۔دوم:۔ان کا یہ فعل کہ باوجود اس امر کے کہ یہ اسلام سے پھر گئے تھے پھر بھی گواہی دیتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں ، خدا تعالیٰ نے سخت نا پسند فرمایا۔ان کو جھوٹا“ 66 کہا اور فرمایا کہ ” بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔“ سوم:۔خدا تعالیٰ نے ان کی اس منافقانہ گواہی کو اسلام کے لئے مفید نہیں بلکہ سخت نقصان دہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس طریق سے یہ لوگوں کو راہ خدا سے روک رہے ہیں۔