مذہب کے نام پر خون — Page 90
مذہب کے نام پرخون کا قائل کر سکتا ہوں نہ اس بات کا خود قائل ہوں کہ اعتقادات اور خیالات کے بارہ میں کوئی زبردستی کی جاسکتی ہے۔میرے نزدیک تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی سچا مذہب صداقت کی تعلیم دیتے ہوئے کسی کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرے۔کیا کبھی سچ کے بیچ سے جھوٹ کی کونپلیں پھوٹ سکتی ہیں یا جھوٹ کی گٹھلی سے صداقت کا درخت اگا ہے؟ کیا کبھی گندم کے دانوں سے کچلے کے پودے نکلتے دیکھے ہیں؟ اگر ایسا ہونا ممکن نہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اسلام جو کہ ایک مجسم صداقت ہے خود بنی نوع انسان کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرنے لگے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا دل اسلام کی صداقت کا قائل نہ رہا ہو اور خدا کی لاشریک وحدانیت کو تسلیم نہ کرتا ہو اور اپنی حماقت سے اس عقیدہ پر تسلی پا گیا ہو کہ مسیح خدا کا بیٹا تھا اور اس کی خدائی میں شریک تھا تو ایسے شخص کے سامنے اسلام تلوار لے کر کھڑا ہو جائے کہ پہلے کہا کیوں تھا کہ خدا ایک ہے۔اب تو خواہ تم مانو نہ مانو تمہیں یہی کہنا پڑے گا کہ وہ ایک ہے۔ایک ہے۔اگر وہ یہ سوال کر بیٹھے کہ حضور جب میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ایک نہیں تو میں کس طرح یہ گواہی دے دوں کہ وہ ایک ہے۔تو یہ جواب سن کر یہ کہتی ہوئی اسلام کی تلوار اس کی گردن پر گرے گی اور اس کا سر قلم کر دے گی کہ راستی پسند کہیں کا، جھوٹ نہیں بولتا۔اگر چہ یہ درست ہے کہ خدا ایک ہے، اور اس میں بھی قطعا کوئی شک نہیں کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافقین نے یہی سچی گواہی دی تو محض اس لئے کہ ان کے دل یہ گواہی نہیں دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔قرآن کریم میں سورۃ منافقون کی پہلی آیت میں اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُه وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ (المنافقون: ٢) جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو خدا کا رسول ہے مگر باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ ) جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے اللہ یہ گواہی دیتا ہے