مذہب کے نام پر خون — Page 82
۸۲ مذہب کے نام پرخون د بعض لوگ اسلامی شریعت کے اختلافات کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کا تو کوئی امکان نہیں ہے البتہ قرآن کریم کے اصولوں پر اس ملک میں حکومت قائم کرو۔اگر یہ مشورہ دینے والوں کا مطلب یہ ہے کہ شریعت صرف اتنی ہی ہے جتنی قرآن میں ہے باقی اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شریعت نہیں ہے تو یہ صریح کفر ہے اور بالکل اسی طرح کا کفر ہے جس طرح کا کفر قادیانیوں کا ہے بلکہ کچھ اس سے بھی سخت اور شدید ہے۔“ چلئے احمدیوں اور اہل قرآن کا جھگڑا تو نپٹا لیا گیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کفر اور ارتداد بس انہی دو فرقوں پر ختم ہو جاتا ہے؟ تو اس سوال کی تحقیق میں ہم جوں جوں مودودی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں یہ حقیقت کھلتی چلی جاتی ہے کہ مودودیت کے سوا مودودی نگاہ میں ہر دوسری چیز کفر ہی کفر ہے۔آئیے ! مسلمانوں کے مسلمان فرقوں کا حال دیکھتے ہیں کہ مودودی صاحب کے نزدیک ان کا اسلام کتنے پانی میں ہے۔اس انبوہ کثیر پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے مودودی صاحب فرماتے ہیں:۔یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں۔نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مقابل تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے اس لئے یہ مسلمان ہیں۔نہ انہوں نے حق کو حق جان کر اسے تسلیم کیا ہے اور نہ باطل کو باطل جان کر اسے ترک کیا ہے۔ان کی کثرت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ امید رکھتا ہے کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی تو اس کی خوش فہمی قابل داد ہے ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے دودھ کو بلو کر مکھن نکالا جاتا ہے۔ماخوذ از مزاج شناس رسول صفحه ۳۷۲ بحواله تسنیم ۱۵ اگست ۱۹۵۲ء مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ ۱۳۰