مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 54

۵۴ مذہب کے نام پرخون جب تلواروں کے سائے تلے سرکشوں کے سر خم کرنے کا وقت آیا اور نوک خنجر پر ایمان قلوب میں اتارنے کی مبارک گھڑی آ پہنچی۔وہ ساعت جب کہ مسلمان فاتحین کے خوف سے عرب سرداروں کے جسم لرزاں تھے اور سینوں میں دل کانپ رہے تھے۔جب مکہ کی بستی ایک دھڑکتا ہوا دل بن گئی تھی تو کیوں اس فاتحین کے سردار نے شمشیر کی قوت سے ان کو مسلمان نہیں بنالیا ؟ اگر ایسا نہیں کیا اور یقینا نہیں کیا تو پھر حیرت ہے کہ کس دل کے ساتھ یہ لوگ اس سب محبوبوں کے محبوب اور اس بے مثال دلوں کے فتح کرنے والے سے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی ہر قوت جاذبہ کی ناکامی کے بعد تلوار کی قوت کارگر ثابت ہوئی۔مولانا کے دل کا حال میں نہیں جانتا کہ یہ لکھتے ہوئے اس پر کیا گزری تھی یا کیا گزرسکتی تھی مگر اے کاش ! کہ ان کا قلم پھٹ جاتا اور سیا ہی خون ہو جاتی۔فتح مکہ کا دن تو وہ دن ہے کہ جو ابد الآباد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات سے جبر و تشدد کے الزام کی نفی کرتارہے گا۔اس دن کی گواہی ایک ایسی پر شوکت اور بلند بانگ گواہی ہے کہ کتنی ہی صدیاں گزرگئیں مگر آج بھی مؤرخین کے کان اس کو سنتے اور ان کے دل اس پر ایمان لاتے ہیں۔یہ گواہی تو عیسائیوں نے بھی سنی اور اہل ہنود نے بھی اسے قبول کیا۔پھر حیرت ہے کہ مولانا کے کان اس بے مثال دن کی آواز سننے سے کیوں محروم رہ گئے ؟ اسی دن کی گواہی کا ذکر کرتے ہوئے ایک عیسائی مستشرق مسٹر سٹینلے لین پول لکھتے ہیں :۔اب وقت تھا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) خونخوارانہ فطرت کا اظہار کرتے۔آپ کے قدیم ایذا دہندے آپ کے قدموں میں آ پڑے ہیں۔کیا آپ اس وقت اپنے بے رحمانہ طریقہ سے ان کو پامال کریں گے؟ سخت عقوبت میں گرفتار کریں گے یا ان سے انتقام لیں گے۔یہ وقت اس شخص کے اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کا ہے۔اس وقت ہم ایسے مظالم کے پیش آنے کے متوقع ہیں جن کے سننے سے رونگٹے کھڑے ہوں اور جن کا خیال کر کے اگر ہم پہلے ہی سے نفرین و ملامت کا شور مچائیں تو بجا ہے۔مگر یہ کیا معاملہ ہے؟ کیا بازاروں میں کوئی خون ریزی نہیں ہوئی ؟