مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 53

۵۳ مذہب کے نام پرخون مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ تاریخ کے سبق کے دوران یونیورسٹی آف لنڈن کے تاریخ کے ایک متعصب پروفیسر نے اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم کا الزام لگایا۔میں اور میرے ایک عزیز دوست میر محمود احمد صاحب ناصر اسے برداشت نہ کر سکے اور جواب دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اس پر اس پروفیسر نے کہا کہ یہاں بحث کا وقت نہیں تم کو جو کچھ کہنا ہو میرے کمرہ میں آکر کہنا۔مگر ہم نے اسے یہ جواب دیا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے آقا پر حملہ تو تم برسر عام کرو اور جواب ہم علیحدگی میں دیں؟ چنانچہ جب ہم نے اس بارے میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی تو ایک یہودی طالب علم اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ اگر چہ میں یہودی ہوں اور سب سے زیادہ مجھے اس بات کا غصہ ہونا چاہیے تھا مگر یہ بحث سننے کے بعد میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اس واقعہ سے ہرگز کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ اول تو یہ فیصلہ ان کا نہیں تھا دوسرے سعد بن معاذ کا فیصلہ بھی میرے نزدیک درست تھا اور وہ غدار اسی لائق تھے کہ تہ تیغ کئے جاتے۔“ آج تک اس شریف النفس یہودی کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں اور میں تادم مرگ اس کا ممنون احسان رہوں گا اور ہمیشہ دل سے اس کے لئے دعا نکلتی رہے گی کہ اس نے انصاف کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور غیر معمولی شرافت اور جرات کا اظہار کرتے ہوئے میرے محبوب آقام کی بریت کی۔مگر میری نظر ان لوگوں کی طرف لوٹتی ہے جن کے نزدیک بانی اسلام کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی اور دوسرے میں قرآن تھا تو سینہ میں دل خون ہونے لگتا ہے۔فتح مکہ صلح حدیبیہ تک کا دور ختم ہوا اور فتح مکہ کا دن آگیا جو دراصل حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر سے ہر تشدد کے الزام کو دور کرنے کا دن تھا۔اس دن آنحضور نے کفار مکہ پر ایک عظیم فتح حاصل کی مگر کسی ایک شخص کو بھی تلوار کے زور سے مسلمان نہ بنایا۔پس میں اسی دن کا واسطہ دے کر یہ الزام لگانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ جب وہ نبیوں کا سردار دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا اور مکے کو اس کی شوکت اور جلال نے ڈھانپ لیا تو وہ جبر کی تلوار کیوں زیر نیام چلی گئی۔کیوں فتح مکہ کے دن جب مشرکین مکہ کی گردنیں اس رسول کے ہاتھ میں دی گئیں۔