مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 36

مذہب کے نام پرخون عملی احتجاج کے طور پر تھیں تو پھر اسی سانس میں یہ کہنے کی گنجائش ہی کہاں رہتی ہے کہ اسلام خود مذہب کے نام پر جبر روا رکھتا ہے۔یہ سمجھنا آپ کے لئے اور میرے لئے مشکل ہو تو ہومگر مودودی صاحب کے لئے مشکل نہیں۔چنانچہ اس مقام پر اس امر کی پوری تسلی کر لینے کے بعد کہ مخالفین اسلام کا منہ دندان شکن جواب دے کر بالکل بند کر دیا گیا ہے، اب اپنوں میں بیٹھ کر دل کی بات کا اظہار شروع کرتے ہیں اور ایک حیرت انگیز قلب ماہیت TRANSFORMATION میں سے گزرتے ہوئے قرآن و حدیث کو من مانے معنی پہنا کر اور نا قابل فہم وجوہ جواز پیش کر کے آخر اس نتیجہ تک پہنچ ہی جاتے ہیں کہ مسلمان بنانے کے لئے تو جنگ بہر حال جائز نہیں مگر بری باتوں سے روکنے کے لئے ضرور جائز بلکہ فرض ہے۔اور چونکہ غیر اسلامی ممالک اور تمدن میں بری باتیں ہوتی ہی ہیں اس لئے اسلام ہر گز یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اپنے ملک میں آپس میں بری باتیں کرتا رہے۔اس جبر کو تو انسانی آزادی میں دخل نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اسلام پھیلانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو محض بری باتوں سے روکنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ایک اور قدم آگے یہ فرما کر مولانا اپنے ذاتی رجحانات کے بہت قریب آجاتے ہیں مگر ابھی دل کی پوری بات نوک قلم پر نہیں آئی۔بھلا اس میں کیا لطف ہوا کہ کسی کو بزور شمشیر بری باتیں کرنے سے منع کر کے انسان اپنا رستہ پکڑ لے۔جب ایک دفعہ بری باتوں سے روکنے کی غرض سے تلوار ہاتھ میں پکڑ ہی بیٹھے تو پھر کیا اسی پر بس کر دیں گے؟ نہیں بلکہ اس کی کوئی اور غرض ہونی چاہیے اور وہ غرض ڈھونڈنی بھی کچھ مشکل نہیں۔اگر قرآن کریم کی صرف ایک آیت کو محل سے بے محل کر کے اسے حسب منشا معنی پہنا دیئے جائیں تو با آسانی ایسا ہو سکتا ہے۔چنانچہ یہی آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے مودودی صاحب فرماتے ہیں:۔" حَتَّى يُعطوا الجِزْيَةَ میں اس قتال کی غرض و غایت کو اچھی طرح بیان کر دیا گیا ہے ( جس قتال کو بری باتوں سے روکنے کی غرض سے شروع کیا گیا تھا۔ناقل ) اگر حتی يُسْلِمُوا کہا جاتا تو البتہ غایت قتل یہ ہوتی کہ انہیں تلوار کے زور سے مسلمان بنایا جائے لیکن حَتَّى يُعطوا الْجِزْيَةَ نے بتا دیا کہ ان کا ادائے جزیہ پر راضی ہو جانا قتال کی