مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 272

۲۷۲ مذہب کے نام پرخون نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے لے،، مندرجہ بالا تحریرات کے مصنف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اور آپ کے پیروؤں کو اس زمانہ کے مسلمانوں نے غیر مسلم قرار دے دیا ہے۔اور بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اور آپ کے پیروؤں کو غیر مسلم قرار دینے والے خود کیا ہیں؟ اس کا حال اور ان کی ایمانی اور عملی حالت کا نقشہ شاعر مشرق علامہ سرمحمد اقبال (۱۹۳۸-۱۸۷۵ء) نے اپنی مشہور نظم ” جواب شکوہ میں کھینچا ہے ہے۔ڈاکٹر اقبال نے شاعر فلسفی ، سیاسی مدبر اور مجموعی لحاظ سے بیسویں صدی عیسوی کے ہندوستانی اسلام کی بہت ہی نمایاں شخصیت ہونے کے باوجود ایک طرف تو اس امر کا اقرار کیا کہ اس زمانہ کے مسلمان عملاً اسلام سے اس درجہ دور ہو چکے ہیں کہ بد اعمالیوں میں یہود پر بھی سبقت لے گئے ہیں، ان کی اس درجہ بڑھی ہوئی بد اعمالیاں دیکھ کر یہود بھی شرما جاتے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کی مذہبی اور اخلاقی حالت تو اس درجہ ابتر ہو چکی ہے کہ انہیں اپنے اسلاف کے مدفن تک پیچ کھانے میں کوئی عار نہیں ہے اور دوسری طرف انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ مسلمانوں اور احمدیوں میں تفریق کو روا رکھنا ضروری ہے۔چنانچہ ۱۹۳۶ء میں انہوں نے انڈین نیشنل کانگرس ( جس پر ہندو چھائے ہوئے تھے ) کے معروف لیڈر پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام (جو بعد میں آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے ) ایک کھلا خط لکھا اور اس میں مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔سیکولر انڈیا کے دستور میں ایسے کسی مطالبہ کی گنجائش کہاں تھی لہذا اس مطالبہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔لیکن دیوبندی علماء نے اسے اپنے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا ہے۔ادھر بھارت میں ہندوؤں نے رام راج کے نام پر آفت ڈھائی ہوئی ہے۔انہوں نے ایودھیا میں پولیس کی حفاظت میں بابری مسجد پر قبضہ کرنے اور اسے شہید کرنے کے بعد رام جنم بھومی مندر میں تبدیل کر دیا ہے۔ہندوؤں کا ایک طبقہ یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ بنارس اور کاشی کی مسجدوں کو بھی مندروں میں تبدیل کیا جائے۔ہندوؤں کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں مسلم پرسنل لاء ( فقہی قوانین ) کوکالعدم قرار دیا جائے۔ل توضیح مرام تصنیف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صفحه ۲۴ تفصیل کے لئے دیکھیں اس کتاب کا صفحہ ۱۶۰،۱۵۹