مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 256

۲۵۶ مذہب کے نام پرخون لوگوں کی ہلاکت پر آنسو بہاتا ہوں جو مجھ سے محبت اور اخلاص کا تعلق رکھتے تھے۔(تمہارے اس طعنہ کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ) میں جب تک زندہ ہوں میں ان لوگوں کے اوصاف کو یاد کر کر کے آنسو بہاتا اور ان کی ہلاکت پر نوحہ کرتا رہوں گا جو مکہ کے عالی نسب گھرانوں کی آن بان اور عزت و آبرو کے مظہر تھے لے “ ظاہر ہے اس قسم کے سوقیانہ اور بازاری انداز کلام اور بے لگام دشنام طرازی کی آئینہ دار مہم کا اصل مقصد یہ تھا کہ ایک طرف تو انصار اور مہاجرین کے درمیان اور دوسری طرف خود انصار میں سے اوس و خزرج کے درمیان افتراق کا بیج بو کر ان میں پھوٹ ڈالی جائے اور انہیں با ہم ایک دوسرے کے خلاف لڑنے پر اکسایا جائے۔جب یہو دمدینہ کو یہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر آئی تو قبیلہ بنو قینقاع کے شاس بن قیس نامی ایک معمر یہودی نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ وہ صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اوس اور خزرج کے مابین ماضی میں لڑی گئی جنگ بعاث کے واقعات ان کے درمیان جا کر بیان کرے اور اس جنگ کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف جو نظمیں کہی تھیں وہ انہیں گا گا کر سنائے تا کہ پرانی دشمنی پھر عود کر آئے اور اس طرح ان کے جذبات ایک دوسرے کے خلاف پھر بھڑک اٹھیں۔جب اس نوجوان نے شرانگیزی کی نیت سے وہ نظمیں باری باری اوس اور خزرج کو سنانے اور ان کے جذبات بھڑ کانے کا سلسلہ شروع کیا تو رفتہ رفتہ اوس اور خزرج کے درمیان پرانی دشمنی پھر ابھر نے لگی اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ بالآخر دونوں قبیلوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور لگے ایک دوسرے کو مقابلہ اور مبارزت کی دعوت دینے۔دونوں نے ایک دوسرے کو کہنا شروع کر دیا ”اگر تم یہی چاہتے ہو تو بے شک جنگ کر کے دیکھ لو، تم جنگ کے لئے تیار ہو تو ہمیں بھی تیار پاؤ گے۔جب بات اور آگے بڑھی تو دونوں گروہ غصہ سے بھر گئے اور لگے ایک دوسرے کو للکارنے کہ کچھ فاصلہ پر واقع سیاہ پتھر یلے مقام (الحزه ) کو ہم میدان جنگ مقرر کرتے ہیں۔دونوں طرف ہتھیار سنبھالو ہتھیار سنبھالو کا شور پڑ گیا اور سب اس میدان کی جانب نکل کھڑے ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو ل ابن ہشام