مذہب کے نام پر خون — Page 255
۲۵۵ مذہب کے نام پرخون نے قیلہ کے فرزندوں (یعنی اوس اور خزرج) کو اپنی ایک نظم میں طعنہ دیتے ہوئے کہا:- میں اس دنیا میں ایک طویل زندگی گزار چکا ہوں لیکن میں نے کوئی گھرانہ یا لوگوں کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں دیکھا جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ (جب وہ مدد کے لئے پکاریں) یکجا ہو کر فرزندان قبیلہ سے بڑھ کر وفاداری کا ثبوت دے سکے۔پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہو جانا تو ممکن ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ اوس و خزرج ہتھیار ڈال کر کسی اور کی اطاعت قبول کر لیں۔پراب ( میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ) ان کے درمیان باہر سے ایک شتر سوار آیا اور اس نے ان میں ایک عجیب و غریب قسم کا فرق پیدا کر دکھایا۔وہ کہتا ہے تمہیں یہ کرنے کی اجازت ہے اور یہ کرنے کی اجازت نہیں۔ہر چیز اور ہر بات میں وہ اپنا حکم چلاتا ہے۔اے فرزندانِ قبیلہ تم تو اقتدار اور قوت کو اہمیت دینے اور ماننے والے تھے تم نے ماضی میں متبع کی اطاعت کیوں نہ قبول کی لے ، اس اقتباس کے آخری الفاظ سے شاعر کا مطلب یہ تھا کہ متبع تو جنوبی عرب کا ایک طاقتور بادشاہ تھا جس کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔تمہارے آباء واجداد نے اس کے آگے تو سر تسلیم خم نہ کیا لیکن اب تمہیں ہو کیا گیا ہے کہ تم نے مکہ سے آنے والے ایک مہاجر کے تمام دعاوی کو قبول کر کے اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔اس دوران مالک بن الضیف کی جگہ کعب یہودیوں کا سردار منتخب ہو گیا اُس نے بھی جنگ بدر میں قریش کی تباہی پر اپنے دلی ملال اور اذیت کا اظہار کیا۔اس نے ایک مرثیہ لکھا جس میں نوحہ کرتے ہوئے کہا :- 66 ے اوس وخزرج ! تم اپنے درمیان سے اس بے عقل شخص کو نکال باہر کرو تا کہ اس کی لایعنی باتوں سے محفوظ رہ سکو۔تم مجھے اس بات پر مطعون کرتے ہو کہ میں ان 1 سیرۃ رسول اللہ ابن ہشام صفحہ ۹۹۵ انسان العیون مصنفہ علی بن برہان الدین الحلبی صفحہ ۱۱۶ سے سیرۃ رسول اللہ ابن ہشام صفحہ ۴۵۹