مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 251

۲۵۱ مذہب کے نام پرخون اپنا مذہب تبدیل کر لیتے ہیں؟ کیا ان مذاہب کے ماننے والے ایسے لوگوں کو بھی قتل کیا جائے گا ؟ اسلام نے تو تمام مسلمانوں کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ پُر امن ذرائع سے کام لے کر تمام غیر مسلموں سے اُن کا مذہب تبدیل کرانے کی جد و جہد میں مسلسل مصروف رہیں اور اس مقدس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔یہ کام اس قدر اہم ہے اور مسلسل جد و جہد کا اس درجہ متقاضی ہے کہ ہر مسلمان کو اس امر کا مکلف کیا گیا ہے کہ وہ آخری سانس تک اس جد و جہد میں مصروف رہے اور کبھی اور کسی حال میں بھی اس سے غافل نہ ہو۔مثال کے طور پر قرآن مجید فرماتا ہے :- أدع إلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ - (النحل: ١٢٦) (اے رسول ! ) تو لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ سے اپنے رب کی راہ کی طرف بلا اور اس طریق سے جو سب سے اچھا ہو ان سے بحث کر۔تیرا رب ان کو بھی جو اس کی راہ سے بھٹک گئے ہوں بہتر جانتا ہے اور ان کو بھی بہتر جانتا ہے جو ہدایت پاتے ہیں۔جو لوگ سراسر تعصب پر مبنی قتل مرتد کے ظالمانہ عقیدے کے حامی ہیں وہ اس امر پر کبھی دھیان نہیں دیتے کہ اس عقیدہ کے نتیجہ میں بین الاقوامی روابط اور بین المذاہب انسانی تعلقات کا بری طرح متاثر ہونا ناگزیر ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اسلام کے بارہ میں انہوں نے خود جو نقطہ نظر اپنایا ہے وہ عملاً کیسی غیر منصفانہ صورت حال کو جنم دینے کا موجب بنتا ہے۔اس نقطہ نظر کی رو سے بظا ہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ صرف مسلمانوں کو اس حق سے محروم کیا گیا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو مطلب اس کا بجز اس کے اور کچھ نہیں بنتا کہ اسلام کو یہ امتیازی حق حاصل ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو تو اپنا حلقہ بگوش بنائے لیکن دوسرے مذاہب کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کو بذریعہ تبلیغ اپنے اندر داخل کر سکیں کیونکہ جو مذہب بھی کسی مسلمان کو اپنا حلقہ بگوش بنائے گا