مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 245

- ۲۴۵ مذہب کے نام پرخون میں اپنی عمریں کھپا دیں۔ان علماء کی تحقیق میں انتہائی عرق ریزی کی بدولت ہی آج ہمارے لئے یہ امر بالکل ممکن ہے کہ ہم کسی بھی حدیث کے اسماء الرجال میں سے ہر راوی کی حیثیت اور مرتبہ کا تفصیلی جائزہ لے سکیں۔آیئے ہم اب زیر بحث حدیث کے متعلق اس امر کا جائزہ لیں کہ یہ حدیث مقررہ معیاروں پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔سو یہ حدیث آحاد اور غریب کی اصطلاح کے تحت آنیوالی احادیث میں سے ایک ہے ( یعنی یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کے راویوں کا صرف ایک ہی سلسلہ ہے اور جوصرف ایک ہی ماخذ پر جا کر مختم ہوتا ہے )۔احادیث کے جن پانچ مجموعوں میں یہ حدیث شامل ہے ان پانچوں نے راویوں کے سلسلہ کو صرف ایک ہی ماخذ تک پہنچا کر اسے اس سے ہی ماخوذ قرار دیا ہے اور وہ ہے عکرمہ لکھنو کے مولوی عبدالحی مرحوم نے خاص طور پر عکرمہ کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ چونکہ محض بخاری نے اس کی روایت کردہ حدیث کو اپنے مجموعہ احادیث میں شامل کر لیا تھا اس لئے دوسرے ائمہ حدیث نے خود براہ راست تحقیق کئے بغیر ان کی پیروی پر ہی اکتفا کیا اور عکرمہ کی حدیث کو اپنے مجموعوں میں شامل کر لیا۔یہ صحیح ہے کہ ایک حدیث راویوں کے صرف ایک ہی سلسلہ سے مروی ہونے کے باوجود بھی مستند اور قابل اعتبار ہو سکتی ہے تاہم اس میں بھی کلام نہیں ہے کہ ایسی حدیث کو اس درجہ قابل اعتماد قرار نہیں دیا جاسکتا جتنا قابل اعتماد ان احادیث کو قرار دیا جاتا ہے جو راویوں کے ایک سے زیادہ قابل اعتبار سلسلوں سے مروی ہوں۔راویوں کے صرف ایک ہی سلسلہ سے مروی احادیث کو قانون کا درجہ رکھنے والے ایسے فرمانوں پر جو حقوق، ذمہ داریوں اور جرم وسزا سے متعلق ہوں اثر انداز نہیں ہونے دیا جاتا۔جہاں تک حدود پر اثر انداز ہونے کا تعلق ہے سو اس بارہ میں اور بھی زیادہ احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔حدود کا لفظ ایک اصطلاح ہے جو محض ان سزاؤں کے لئے بولی جاتی ہے جو معین طور پر قرآن مجید میں بیان کر دی گئی ہیں۔ارتداد کے لئے موت کی سزا کے حامی اپنے نظریہ کو قرآنی احکام پر مبنی قرار دے کر اسے حدود کے تحت آنے والی سزاؤں کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔ہم ان کے اس دعوے کو پہلے ہی سر تا پا غلط ثابت کر چکے ہیں۔وو