مذہب کے نام پر خون — Page 16
مذہب کے نام پرخون تھا۔تخلیق آدم میں کارفرما اس کی باریک در بار یک حکمتوں کے تقاضے کچھ اور تھے۔ان حکمتوں کے تقاضے کیا تھے؟ یہی کہ ہر شخص ایمان لانے یا نہ لانے کے فیصلہ میں آزاد ہے اور کوئی کسی دوسرے کو اس بارے میں مجبور نہیں کر سکتا۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تعلیم دی گئی وہ بھی آ فَانتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنينَ (يونس:۱۰۰) کیا تو لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں؟ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ (یونس : ۱۰۱) حالانکہ صورت یہ ہے کہ کوئی شخص بھی ایمان نہیں لا سکتا مگر اس وقت جبکہ خدا کا اذن ہو جائے۔یعنی صرف وہی لوگ ایمان لائیں گے جن سے متعلق خدا کا یہ فیصلہ ہو کہ یہ اس لائق ہیں کہ انہیں ایمان کی نعمت سے متمتع کیا جائے مگر سخت حسرت اور افسوس کا مقام ہے کہ باوجود اس کے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بغیر استثناء کے سارے کے سارے مذہبی آزادی کی تعلیم دیتے رہے اور اپنے اعمال سے اور اپنی زندگیوں سے یہ ثابت کر دکھایا کہ بچے مذہب کے نام لیوا مظلوم بن کر زندہ رہا کرتے ہیں ظالم بن کر نہیں اور مذاہب اخلاق سے دلوں کو فتح کیا کرتے ہیں تلوار کے زور سے نہیں مگر بعد کے آنے والے بڑے بڑے جبہ پوشوں نے جو مذہبی علماء یا پیر فقیر کہلاتے تھے کہیں وہ راہب کا نام استعمال کرتے تھے کہیں پادری کا۔کہیں انہیں منتری کہا جاتا تھا کہیں مہنت۔مذہب کے ان اجارہ داروں نے جو درحقیقت مذہب کی رو سے کلینہ نا آشنا تھے اپنے مظلوم انبیاء کا نام لے لے کر ان کی ہی ناموس کی حفاظت کا ادعا کرتے ہوئے ایسے ایسے مظالم دنیا میں ڈھائے کہ انسانیت ان کو دیکھ کر سرنگوں ہو جاتی ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا اور آپ کے ظہور کے بعد بھی ایسا ہی ہوا اور آج تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔آج سے چند سو سال پہلے عیسائیت نے یا یوں کہنا چاہیے کہ بگڑی ہوئی عیسائیت کے بگڑئے ہوئے علمبرداروں نے ، بڑے بڑے پادریوں نے اور بڑے بڑے بشپس اور کارڈینلز نے مذہب کے نام پر عیسائی دنیا میں جو ظلم کئے ہیں وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں اور اس دور میں انسانوں کو دکھ دینے کے جو جو طریقے عیسائی مذہب کے علمبرداروں نے ایجاد کئے وہ اتنے خوفناک ہیں کہ ان کو معلوم کرنے کے بعد انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ کیا انسانیت ذلت کی ایسی اتھاہ گہرائیوں میں بھی اتر سکتی ہے؟ کیا دل سختی میں اتنے بھی بڑھ سکتے