مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 222

۲۲۲ مذہب کے نام پرخون ثُمَّ ابْلِغْهُ مَا مَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ - اور مشرکوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دے کیونکہ وہ ایسی قوم ہے جو (حقیقت کو نہیں جانتی۔آیت ۷- كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدُ عِنْدَ اللهِ وَ عِنْدَ رَسُولِمَ إِلَّا الَّذِينَ b عَهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ - اللہ اور اس کے رسول مشرکوں سے کس طرح عہد و پیمان کر سکتے ہیں سوائے ان مشرکوں کے جن کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا تھا۔پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ معاہدہ پر قائم رہو۔اللہ متقیوں ( یعنی عہد توڑنے سے بچنے والوں ) کو ہی پسند کرتا ہے۔آیت - كيفَ وَ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلَّا وَ لَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبِي قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَسِقُونَ - ہاں دوسرے مشرکوں کو کوئی رعایت کیسے دی جاسکتی ہے کیونکہ وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہاری کسی رشتہ داری یا معاہدہ کی پرواہ نہیں کریں گے۔وہ تم کو اپنے منہ کی باتوں سے خوش رکھتے ہیں حالانکہ ان کے دل ان باتوں سے ) انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر عہد و پیمان کو توڑنے والے ہوتے ہیں۔آیت ۹ اِشْتَرَوُا بِأَيْتِ اللهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِهِ ۖ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلہ میں ایک حقیر سی قیمت وصول کی ہے اور اس کے راستہ سے لوگوں کو روکا ہے۔یقینا ان کے اعمال بہت برے ہیں۔روووور آیت ١٠ - لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ الَّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ -