مذہب کے نام پر خون — Page 208
۲۰۸ مذہب کے نام پرخون که ان الحكم الالله یعنی فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔انسانوں کی قائم کردہ ثالث کا فرض ادا کرنے والی خصوصی عدالتوں کو یہ حق پہنچتا ہی نہیں کہ وہ حکم بنیں۔پھر عقائد کے مخصوص سلسلہ کو بلا کم و کاست اور بلا چون و چرا تسلیم کرانے میں بھی مرکزی کردار خارجیوں نے ہی ادا کیا۔کسی کو مسلمان تسلیم کرنے یا اس کے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے کی شرائط کے بارہ میں بھی وہ بہت متشڈ دواقع ہوئے تھے اور وہ اس بات پر بھی بہت زور دیتے تھے کہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے سلسلہ میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ متعلقہ شخص کے اپنے مسلمان ساتھیوں اور غیر مسلم ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں۔خارجیوں کے گروپ یا جمعیت کو اسلام میں نمایاں طور پر پیدا ہونے والے پہلے فرقہ کی حیثیت حاصل ہے۔یہ خارجی ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے اس اصول کو مسترد کیا کہ کسی کے مسلمان شمار ہونے کی وجہ جواز صرف اس کا ایمان ہے۔وہ اس بات کے سختی سے قائل تھے کہ ایک ایسا مسلمان جو پکا گناہگار ہو فی الاصل مسلمان رہتا ہی نہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ایسے پکے گناہگار مسلمان کے از سر نو ایمان لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اسے اس کے اہلِ خانہ سمیت قتل کر دینا ضروری ہے۔وہ تمام غیر خارجی مسلمانوں کو اسلام کے باغی اور سراسر غیر مسلم قرار دیتے تھے۔برخلاف اس کے قبل ازیں ہم اس امر کا مطالعہ کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے منافقوں کا بھی علم تھا اور آپ یہ بھی جانتے تھے کہ عبد اللہ بن ابی ان کا لیڈر ہے۔اس کے باوجود آپ نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔آپ نے تو یہ کبھی نہیں دیکھا اور نہ کبھی اسے چنداں اہمیت دی کہ کسی مسلمان کا علم کس پایہ اور مرتبہ کا ہے۔خارجیوں کے نظریات براہ راست قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے متصادم تھے۔ان کا یہ اعلان کہ فیصلہ کرنا اور حکم لگانا اللہ کا کام ہے نہ کہ انسان کا (لَا حُكْمَ الأَلله) لے سنت کے سراسر خلاف تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوقریظہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے سعد بن معاذ کو حکم مقررفرمایا تھا اور بطور حکم انہوں نے جو سزا سنائی تھی اس پر باقاعدہ عمل بھی کیا گیا تھا۔سعد کے فیصلہ کے متعلق صحیح مسلم کی حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے امام النووی ( وفات ۱۲۷ ہجری لے مقالات اشعری جلد اول صفحه ۱۹۱ ابن ہشام کی سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۶۸۹،۶۸۸