مذہب کے نام پر خون — Page 207
۲۰۷ مذہب کے نام پرخون حیثیت سے بنوامیہ کے خاندانی دور حکومت (۶۶۱ تا ۷۵۰ء) کا آغاز حضرت امیر معاویہؓ سے ہوا۔ان حکمرانوں میں خلفائے راشدین کے مذہبی تقدس کا شائبہ بھی نہ تھا۔انہیں کم و بیش محض دنیوی بادشاہ ہی قرار دیا جاتا تھا۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ شریعت کے نگرانوں کی حیثیت سے علماء کوکئی لحاظ سے وہی مرتبہ اور مقام حاصل ہوتا چلا گیا جو شاہ قسطنطین کے عیسائی ہونے کے بعد علمائے عیسائیت CLERGY کو حاصل ہوا تھا۔قرونِ وسطیٰ کے یورپی علمائے عیسائیت کی طرح علمائے اسلام کی بھی ان کے علم وفضل کی وجہ سے بہت عزت کی جانے لگی۔ایک آمر یا غیر ہر دلعزیز حکمران اپنے سیاسی اقتدار کو قانوناً جائز ثابت کرنے کے لئے ان علماء کی تائید وحمایت حاصل کرتا اور اس طرح اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھتا۔رفتہ رفتہ یہ علماء حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کرنے لگے۔وہ خود تو اقتدار اپنے ہاتھوں میں نہ لیتے تھے لیکن سیاسی اقتدار پر اثر انداز ہوئے بغیر بھی نہ رہتے تھے۔اس نئی صورتِ حال میں سیاسی اور معاشرتی بغاوتوں اور باغیانہ رویوں کو مذہب کی بنیاد پر جائز قرار دیا جانے لگا اور جلد ہی ایسے حالات پیدا ہوتے چلے گئے کہ حصولِ اقتدار کی خاندانی لڑائیوں اور رقابتوں کا مذہبی عقائد سے متعلق اختلافات پر گہرا اثر پڑنے لگا جس کے نتیجہ میں نت نئے مذہبی فرقے وجود میں آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کی شہادت (۶۶۴۴) کے بعد امت میں جو دو بڑے فرقے خارجی ازم اور شیعہ ازم ابھر کر سامنے آئے۔ان کا آغاز جانشینی پر ہونے والے تنازعات کے شاخسانوں کے دوران ہی ہوا۔خارجی وہ پہلے مسلمان تھے جو اس نظریہ کے بانی مبانی تھے کہ ایک مسلمان جو پکا گناہگار ہو مسلمان نہیں رہتا یعنی یہ کہ گناہگار مسلمان اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔مزید برآں خارجیوں کو ایک اور ناروا امر کو جائز قرار دینے میں اولیت کا مقام حاصل ہے۔چنانچہ یہ خارجی ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے مسلمانوں کے خلاف جہاد بالسیف کا اعلان کیا اور اس لئے کیا کہ ان کے یعنی خارجیوں کے نزدیک وہ پکے اور سچے مسلمان نہ تھے۔خارجی پہلے حضرت علی کے طرف دار تھے لیکن بعد میں وہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین ثالثی کی تجویز سے اختلاف کر کے حضرت علی کا ساتھ چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو گئے۔اس ثالثی کے ذریعہ حضرت عثمان کی شہادت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اختلافات کو طے کرنا مقصود تھا۔وہ کہتے تھے