مذہب کے نام پر خون — Page 191
۱۹۱ مذہب کے نام پرخون ہونے والی سورۃ یعنی سورۃ المائدہ میں اس اصول کو ایک بار پھر دہرا کر اس کی اہمیت ذہن نشین کرائی گئی۔اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقتدار نہ صرف مدینہ بلکہ ملکہ میں بھی پورے طور پر قائم ہو چکا تھا اس امر کو صراحت کے ساتھ واضح کرنا ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ذمہ داری ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ آپ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچادیں۔چنانچہ فرما یا :- وَاطِيعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلغُ الْمُبِينُ (المائدة : ٩٣) ترجمہ : - تم اللہ کی بھی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور ہوشیار رہو اور (اگر اس تنبیہ کے بعد بھی ) تم پھر گئے تو جان لو ہمارے رسول کے ذمہ تو کھول کھول کر پہنچا دینا ہی ہے۔نیز آخر میں پھر اسی بات کو دہراتے ہوئے مزید فرمایا:- مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلاغُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ (المائدة: ١٠٠) ترجمہ:- رسول پر تو صرف بات کا پہنچانا واجب ہے۔اور جو بات تم سے ظہور میں آجاتی ہے اس کو بھی اور جو تم سے ابھی عملاً ظہور میں نہیں آئی اس کو بھی اللہ خوب جانتا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ مذہبی اعتقاد ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔یہ صرف اور صرف خدا ہی ہے جو اس کو بھی جانتا ہے جسے انسان اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے اور اس کو بھی جانتا ہے جسے اس نے اپنے عمل سے ظاہر نہیں کیا یعنی دل کے مخفی خیالات اور ارادوں سے خدا ہی واقف ہوتا ہے۔نہ حکومت کو اور نہ سر بر آوردہ مذہبی افراد کو یہ مقدرت حاصل ہے اور نہ ان کے دائرہ کار میں شامل ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ ہو سکے یہ جان سکیں کہ دلی طور پر وہ کس بات پر ایمان رکھتے ہیں اور کس بات پر نہیں۔اس آیت سے منافقین کی طرف ذہن کا منتقل ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔منافقین سے مراد مدینہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے محض دکھاوے کے طور پر ہی اسلام قبول کیا تھا اسی لئے ان کا ایمان مشکوک تھا۔قرآن میں منافقین کا متعدد جگہ ذکر آتا ہے لیکن چار مقامات ایسے ہیں جہاں منافقوں کا