مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 190

۱۹۰ مذہب کے نام پرخون ظاہر ہو چکا ہے۔پس جو شخص ( اپنی مرضی سے ) نیکی سے روکنے والے کی بات ماننے سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان رکھے تو اس نے ایک نہایت مضبوط اور قابل اعتماد چیز کو جو بھی ٹوٹنے کی نہیں مضبوطی سے پکڑ لیا۔اور اللہ بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔یہ ایک ایسے نبی کی طرف سے انتہائی پر اعتماد اعلان ہے جس نے ایک ایسے شہر میں ایک نئی امت کی بنیاد ڈالی ہے جس میں اسے کلی اقتدار اعلیٰ حاصل ہے۔اس امر کے پیش نظر کہ کہیں جہاد کے مسئلہ کو غلط رنگ دے کر غلط فہمی نہ پیدا کی جائے یہ امر مسلمانوں کے ذہن نشین کرایا جارہا ہے کہ نیکی ، ایمان اور اعمال صالحہ بجالانے میں مضمر ہے ( آیات ۱۷۰ تا ۲۴۲)۔اس کے بعد آیت الکرسی یعنی آیت ۲۵۶ میں اللہ تعالیٰ کی ارفع و اعلیٰ شان اور اس کی قوت و جبروت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور پھر آیت الکرسی کے معابعد مذہب میں کوئی جبر نہیں، کا اعلان عام کیا گیا ہے۔قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والے یہ سمجھ سکتے تھے کہ خدا مسلمانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ طاقت کے بل پر اسلام پھیلا ئیں کیونکہ اس میں انہیں امت کے دشمنوں سے لڑنے اور خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے کے لئے کہا گیا ہے چنانچہ ان کی یہ غلط فہمی دور کرنے کے لئے اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو ہر قسم کے ابہام سے مبر انہایت درجہ واضح الفاظ میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اشاعت اسلام کی غرض سے طاقت استعمال کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔اس آیت کی اہمیت کا اندازہ ایک حدیث سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو جامع ترمذی میں درج ہے اُس حدیث کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ قرآن کی چوٹی ( یعنی اس کا بلند ترین حصہ ) ہے۔جو شخص بھی اس کی دس آیات کی تلاوت کو اپنا معمول بنائے گا شیطان اس کے گھر میں داخل نہیں ہو سکے گا وہ دس آیات یہ ہیں سورۃ البقرۃ کی پہلی چار آیات ، آیت الکرسی، اس کے معابعد کی دو آیات یعنی ۲۵۸،۲۵۷ اور آخری تین آیات ) ان دس آیات میں اس آیہ کریمہ کو شامل فرمانے سے جس میں دین کے معاملہ میں جبر جائز نہیں ، کا اعلان عام کیا گیا ہے یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ اس اعلان عام کو ہمیشہ ہمیش کے لئے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اس اصول کو کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں بدر کی فتح کے بعد بڑی شد و مد کے ساتھ دہرایا گیا۔پہلے سورۃ النساء کی آیت ۲۱ میں اس کا اعادہ ہوا اور پھر سب سے آخر میں نازل