مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 174

۱۷۴ مذہب کے نام پرخون حلال زادہ نہیں ہوسکتا ہے، اور کچھ آگے چل کر مولوی ظفر علی خان صاحب کے کچھ اشعار نقل کرتے ہیں جن میں احرار کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے:۔گالیاں دے جھوٹ بول احرار کی ٹولی میں مل نکتہ یوں ہی ہوسکے گا حل سیاسیات کا خالصہ کا ساتھ دے جب یہ شریعت کا امیر کیوں نہ کہئے اس کو ”بابا ٹل “سیاسیات کا پس یہ ایک لمبا اور افسوسناک سلسلہ سب وشتم ہے جو ایک دوسرے کے خلاف جاری ہے اور تمام الزام حتی کہ طرز کلام بھی وہی ہے جو احمدیت کے خلاف آج تک اختیار کی جاتی رہی۔کیا علماء بتا سکتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس دنیا میں خدا اور اس کے رسول کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے؟ معاملہ صرف سب وشتم تک آ کر رک نہیں جاتا اور محض ایک عام اشتعال انگیزی پر ہی اکتفاء نہیں بلکہ یہ امریقینی ہے کہ جب ایک لمبے آرزوؤں کے دور کے بعد ان میں سے کسی گروہ علماء کو اقتدار نصیب ہوگا تو یہ مخالف فرقوں کے قتل عام سے قطعاً گریز نہیں کریں گے۔جب حصول اقتدار سے قبل بھی مذہب کے نام پر قتل ، غارت گری اور آگ لگانے کی بکثرت مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ حصول اقتدار کے بعد اس طرزعمل میں کوئی فرق آ جائے گا۔جب باہمی نفرت کا یہ عالم ہو، جب اشتعال انگیزی ہر حد سے گزر جائے اور ان شدید جذبات غیظ و نفرت پر مستزاد یہ ہو کہ اقتدار بھی حاصل ہو جائے اور تمام ملکی قوتیں ان کے مد مقابل ہونے کی بجائے پس پشت جا کھڑی ہوں تو پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ اس مقام فتح وظفر پر پہنچ کر یہ علماء ظلم و تعدی سے دفعہ اپنے ہاتھ روک لیں گے۔ایسے وقت میں ظلم و ستم کی راہ میں صرف ایک ہی روک حائل ہوسکتی ہے کہ رب العالمین کے جلال کی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہو جائے اور تقوی اللہ کا مضبوط ہاتھ انہیں اس اقدام سے باز لے شورش کی شورش صفحه ۹