مذہب کے نام پر خون — Page 173
۱۷۳ مذہب کے نام پرخون قلت نہ ہوتی تو خدا جانے اور کون سی کھری کھری‘ باتیں سناتے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سیکرٹری انجمن جماعت اہل سنت مصری شاہ لاہور کے پاس نسبتاً زیادہ وقت ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ انہوں نے دیو بندی علماء خصوصاً شورش صاحب کو دل کھول کر باتیں کھری کھری سنائی ہیں بلکہ اپنے مضمون ”شورش کی شورش“ کو بکثرت ٹھوس حوالہ جات سے مزین کیا ہے اور ہر بات کی دلیل پیش کی ہے۔چنانچہ ان کھری کھری باتوں کے ضمن میں آپ دود یو بندی علماء کے باہمی اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔وو مولاناحسین احمد صاحب نے مسلم لیگ میں مسلمانوں کی شرکت کو حرام قرار دیا اور قائد اعظم کو کافر اعظم کا لقب دیا اور مولوی حسین احمد کے اسی فتوی کی بناء پر مولوی شبیر احمد عثمانی نے کہا تھا کہ :- وو یہ پرلے درجے کی شقاوت قلبی ہے کہ قائد اعظم کو کافر اعظم کہا جائے۔“ شورش صاحب ! ذرا آنکھیں کھول کر دیکھئے کہ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کو کافر، ابوجہل، سور، پرلے درجے کاشقی ، احمق اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والے کون ہیں؟ علمائے بریلی یا علمائے دیوبند۔۔۔۔؟ شورش صاحب! اب بتائیے کہ بقول آپ کے علماء سوء۔کا فر گر۔دین فروش۔یاوہ گو۔بے لگام۔فتنہ گر۔شقی القلب۔بد بخت و بد زبان۔اور دھوپ چھاؤں کی اولاد علماء بریلی ہیں یا چشم بد دور آپ کے دیو بندی علماء ؟ لے ، پھراگلے صفحہ پر ایک دیو بندی عالم کے ایک فتویٰ سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” بتائیے دیوبندی مذہب اور اس فتویٰ کی رو سے ساری دنیا بالخصوص پاکستان میں آپ سمیت کتنے مسلمانوں کا نکاح قائم اور اولا دحلال ہوسکتی ہے؟ علمائے اہل سنت پر تکفیر کا الزام لگانے والو ذرا اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تمہاری کا فرگری و تکفیر بازی کا فتنہ کیسا متعدی ہے کہ جس کی رو سے دنیائے اسلام کا کوئی فرزند مسلمان و شورش کی شورش صفحہ ۸