مذہب کے نام پر خون — Page 166
۱۶۶ مذہب کے نام پرخون ہے تو بکر کا ہاتھ ، اور ہر ایک کا گریبان دوسرے کے ہاتھوں پارہ پارہ ہو رہا ہے۔چنانچہ اس وقت میری نظر کے سامنے ایک کتابچہ ہے جس کا عنوان ہے دیوبندی مولویوں کا ایمان“۔یہ (مولانا) عبد المصطفیٰ ابو یحی محمد معین الدین شافعی قادری رضوی تھانوی نے تصنیف فرمایا ہے۔اس کے سرورق کے اندرونی صفحہ پر ہی مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کے بارہ میں غیر مبہم الفاظ میں یہ فتویٰ شائع کیا گیا ہے کہ وہ ختم نبوت کے قائل نہ تھے۔اگر چہ الفاظ ایسے مہذبانہ نہیں مگر مفہوم یہی ہے۔اس کے بعد کتاب کا اصل مضمون شروع ہوتا ہے اور مولوی اسمعیل صاحب دہلوی کو مرکزی حیثیت دے کر تکفیر کا نشانہ بنایا گیا ہے (عبارت چونکہ نہایت مغلق اور دقیانوسی ہے اس لئے تحریر کے نمونے پیش کرنے سے حتی المقدور احتراز کر رہا ہوں ) اس کے بعد دیو بند کے دوسرے ائمہ سے متعلق نام بنام تکفیر کے فتوے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بھی بغیر شک کے کا فرقرار دیا گیا ہے اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو بھی۔مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی دیو بندی کے کفر کی تو بناء ہی مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کی طرح عقیدہ ختم نبوت کا انکار قرار دی گئی ہے۔چنانچہ ان کے کئی ایک اقتباسات درج کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کلیۂ ختم نبوت کے منکر تھے (حالانکہ جس طرح یہ جھوٹ ہے کہ احمدی ختم نبوت کے قائل نہیں اسی طرح یہ بھی صریح بہتان ہے کہ مولانامحمد قاسم نانوتوی ختم نبوت کے منکر تھے ) مگر چونکہ ختم نبوت کی تشریح ان کے نزدیک احمدیوں کی طرح مولا نا عبد المصطفى۔۔۔شافعی قادری وغیر ہم کی تشریح ختم نبوت کے خلاف ہے اس لئے اس رسالہ کے مصنف عبد المصطفیٰ جناب مولوی محمد قاسم صاحب سے متعلق فرماتے ہیں:۔مسلمانو! دیکھو اس ملعون ، نا پاک شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی ہے۔۔اب یہ ملاحظہ فرمائیے کہ مولوی قاسم نانوتوی منکر ختم نبوت ہے اور منکرین ختم نبوت کے حق میں مولوی رشید احمد و مولوی خلیل احمد وغیرھم وہابیہ نے کفر کے فتوے دیئے۔۔۔66 مگر میں یہ کہتا ہوں کہ اب یہ ملاحظہ فرمائیے کہ وہی ختم نبوت کے انکار کی چھری جو بھی