مذہب کے نام پر خون — Page 165
۱۶۵ مذہب کے نام پرخون سے باندھ کر اُن کی خوب مرمت کی اور ادھ موا چھوڑ گئے۔اس کے بعد شاہ صاحب پھل کی طرف لیکے اور مالی نے انہیں کمزور اور تنہا پا کر اُن کی گردن داب لی اور مار مار کر بے حال کر دیا۔اگر ناظرین ذرا بھی غور کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان علماء کی War Strategy یعنی جنگی داؤ پیچ اس مثال کے بہت مشابہ ہیں۔فرق ہے تو صرف یہ کہ اس باغ کے یہ آپ خود ہی مالک بن بیٹھے ہیں۔بہر حال اس امر میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ یہ تشدد اور قتل مرتد کی آوازیں بلند کرنے والے علما ء دل میں مستحکم ارادے لئے بیٹھے ہیں کہ جب بھی ان کو کسی مخالف فرقہ پر اقتدار حاصل ہوا یہ بزور اس کا صفایا کر دیں گے۔ختم نبوت کے انکار کے الزام میں احمدیوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کے کچھ مناظر آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔اس وقت یہ علماء یک زبان ہو کر عوام سے کہتے تھے کہ کافر ہیں تو یہی احمدی ہیں اور مرتد ہیں تو یہی ، اور ان کے خاتمہ کے ساتھ ہی اسلام کے تمام دکھوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور ہم بھائیوں کی طرح باہم گلے مل کر بیٹھیں گے۔ہمارے اختلافات اندرونی ہیں اور یہ ایک بیرونی اختلاف ہے۔ہمارے اختلافات فروعی ہیں اور یہ ایک بنیادی اختلاف ہے۔مگر انہی دنوں کی بات ہے جب یہ تحریک اپنی پوری قوت کے ساتھ جاری ہو چکی تھی تو ” جماعت اسلامی“ کا ترجمان تسنیم اہل قرآن کے خلاف یہ فتویٰ دیئے بغیر نہ رہ سکا کہ :- اگر یہ مشورہ دینے والوں کا مطلب یہ ہے کہ شریعت صرف اتنی ہی ہے جتنی قرآن میں ہے باقی اس کے علاوہ جو کچھ ہے شریعت نہیں ہے تو یہ صریح کفر ہے اور بالکل اُسی طرح کا کفر ہے جس طرح کا کفر قادیانیوں کا ہے بلکہ کچھ اس سے بھی سخت اور شدید تر ہے۔“ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی ساری توجہ جماعت احمدیہ پر مرکوز تھی۔اب تو خیر ہر طرف تکفیر کی گرم بازاری ہے اور کفر و ایماں کا جو مقدمہ تھا آج پھر اسی کی روبکاری ہے مذہب کے میدان میں ایک عام بلکہ مچ گیا ہے۔زید کی لاٹھی ہے تو بکر کا سر۔عمرو کی داڑھی