مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 144

۱۴۴ مذہب کے نام پرخون کون ہوتا ہے حریف مئے مردانگن عشق ہے مکر رلب ساقی پہ صلا میرے بعد مگر یہ عجیب بدقسمتی کا دور ہے کہ حریف مئے مرد افگن عشق تو کوئی نہیں ہوتا ہاں اس کیف و مستی کے سب خواہاں ہیں جو صرف اس مئے عشق ہی میں مضمر ہے اور وہ نہیں جانتے کہ امل قوانین قدرت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔میں اپنے مضمون کے تسلسل کو توڑ کر کہیں اور نکل آیا ہوں۔دراصل آج سے چودہ سو برس پہلے کے انداز تبلیغ کی دلنشینی نے مجھے اپنے اندر ایسا جذب کر لیا کہ میں کچھ دیر کے لئے اسلام کے اس شاندار ماضی میں محو ہو گیا جس کی یاد میرا سرمایہ حیات ہے اور بھول گیا کہ میں تو اپنے گرد و پیش کی ، اس ملک کی اور آجکل کی باتیں کر رہا تھا اور زیر نظر وہ طریقہ تبلیغ تھا جس کا نظارہ ہم نے ۱۹۵۳ء میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ذکر ان قافلہ ہائے جور و ستم کا ہو رہا تھا جو ہمارے دلوں کو پامال کرتے ہوئے گزرے تھے۔اور جس کی بعض جھلکیاں کچھ اس طرح ہیں:۔ایک بڑا ہجوم اس مسجد کی طرف جا رہا تھا اس کو راستے میں روک لیا گیا۔کمشنر کی ہدایت کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ہجوم کو منتشر ہونے کا حکم دیا لیکن وہ افسروں پر پل پڑا۔پولیس کو اس ہجوم پر لاٹھی چارج کا حکم دیا گیا جس کے جواب میں آس پاس کے مکانوں سے اینٹیں برسائی گئیں۔مسٹر خلیل الرحمن اسسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس کے سر پر شدید زخم آیا اور پولیس کی ایک گاڑی توڑ پھوڑ دی گئی ہے۔اور صرف اینٹیں برسانے پر ہی اکتفاء نہیں کی گئی بلکہ علماء کے بتائے ہوئے تبلیغ اسلام کے طریق پر عمل پیرا ہوتے ہوئے:۔ے مارچ کو موضع نند پور میں شورش پسندوں کے ایک ہجوم نے ایک شخص محمد حسین کو یہ مجھ کر قتل کر دیا کہ وہ احمدی ہے۔تفتیش سے معلوم ہوا کہ متوفی کے ایک دشمن نے اس کو قتل کرانے کے لئے چال چلی تھی کے “۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۷۸ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۸۳