مذہب کے نام پر خون — Page 8
مذہب کے نام پرخون پڑھنے کے بعد دنیا کا کوئی انسان جو ذراسی عقل بھی اپنے اندر رکھتا ہو یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مذہب کی طرف سے مذہب کو چھوڑنے پر ظلم روا رکھا جاتا رہا ہے۔خدا کے انبیاء “ تو ایک مذہب چھوڑ کر دوسرے مذہب میں داخل ہونے کی تعلیم دیتے ہیں۔جب وہ خود یہ تعلیم دیتے ہیں تو وہ یہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ محض اس بناء پر کہ کوئی شخص کسی مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں داخل ہورہا ہے اس پر کسی قسم کا ظلم یا جبر روا رکھا جائے۔قرآن کریم سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ظلم صرف انہی پر نہیں کیے جاتے جو انبیاء پر ان کے دور اول میں ایمان لاتے ہیں بلکہ انبیاء کے گزرنے کے سینکڑوں سال بعد بھی ان کے ماننے والوں پر بسا اوقات اس زمانہ کے ظالم لوگ ظلم کرتے ہیں اور یہ ظلم بھی مذہب ہی کے نام پر کیا جاتا ہے مگر حقیقیہ خدا تعالیٰ کی مرضی یا تائید ان کو حاصل نہیں ہوتی اور مذہب سے اس ظلم کو دور کا علاقہ بھی نہیں ہوتا۔چنانچہ اس ضمن میں قرآن کریم اصحاب کہف کی مثال بیان فرماتا ہے۔یہ وہ عیسائی لوگ تھے جو تین صدیوں تک عیسائیت کے مخالفین کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے۔ان کو اتنا تنگ کیا گیا ، ایسے ایسے شدید مظالم ان پر ڈھائے گئے کہ ان کی یاد سے آج بھی سینوں میں دل خون ہو جاتے ہیں۔میں نے خود وہ عمارتیں دیکھی ہیں جن عمارتوں میں ان عیسائیوں پر ظلم ڈھائے جاتے تھے۔ان کو کولی سیم COLLISIUM کہا جاتا ہے۔پرانے رومن زمانوں میں یہ ایک قسم کے تھئیٹر ز ہوا کرتے تھے یعنی تماشا گا ہیں۔جہاں پہلوانوں کی لڑائیاں یا شیروں اور بھینسوں کی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔جس زمانہ کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے اس زمانہ میں انہی تماشا گاہوں کو عیسائیوں پر ظلم کرنے کا ایک ذریعہ بنالیا گیا اور ایک طرف تو پنجرے میں بھوکے شیر یا دوسرے جنگلی درندے جن کو کئی کئی دن فاقے دے کر رکھا جاتا تھا بند ہوا کرتے تھے اور دوسری طرف پنجروں میں وہ عیسائی بند ہوتے تھے جن سے متعلق اس زمانے کے مذہبی رہنماؤں کا یہ فتویٰ تھا کہ یہ مرتد ہیں کیونکہ انہوں نے ایک دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لیا ہے۔چنانچہ ایک طرف تو پنجروں میں یہ مرتدین“ تھے۔وہ بھوکے تھے ، وہ بھی ننگے تھے ، وہ بھی کئی کئی دن تک پانی اور روٹی سے محروم رکھے جاتے تھے جس سے ان کی کمزوری اس حد تک بڑھ جاتی تھی کہ ان کے لئے کھڑا ہونا دشوار ہو جاتا تھا۔اور اس کے برعکس