مذہب کے نام پر خون — Page 127
۱۲۷ مذہب کے نام پرخون بلکہ ظلم وستم کی پر چھائیاں تھیں جو ایک جھوٹی چمک کے ساتھ سینوں اور دلوں کو برما رہی تھیں۔یہ وہی منحوس دن تھا جس کا ذکر کرتے ہوئے تحقیقاتی عدالت کے فاضل حج یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ 66 اس دن کے واقعات کو دیکھ کر سینٹ بارتھولومیوڈے یاد آتا تھالے “ سینٹ بارتھولومیوڈے“ فرانس کی تاریخ کا وہ دن ہے جس کے ذکر سے آج بھی فرانس شرماتا ہے یہ وہ دن ہے جس کا چہرہ رات کی طرح سیاہ تھا۔یہ وہ رات تھی جب ملک کے رومن کیتھولک مذہبی راہنماؤں اور بادشاہ وقت کی باہمی سازش سے پروٹسٹنٹ فرقہ سے تعلق رکھنے والے کمزور اور بے کس عیسائیوں کا ایک سفاکانہ قتل عام کیا گیا اور اس بے دردی سے ان کو مارا گیا کہ اہل فرانس ہی نہیں انسان بحیثیت مجموعی اس کے ذکر سے شرمانے لگتا ہے۔اس دن کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ولیم ہاوٹ اپنی کتاب ” ہسٹری آف پریسٹ کر یفٹ ان آل ایجر“ میں لکھتے ہیں :۔قاتلوں کے شور، مظلوموں کی آہ وفغاں اور زخمیوں کی چیخ و پکار سے قیامت بر پاتھی۔مقتولوں کے جسم کھڑکیوں سے باہر پھینکے اور بازاروں میں سڑکوں پر گھسیٹے گئے اور اس سلسلہ میں بچوں اور بوڑھوں مردوں اور عورتوں میں کوئی امتیاز روا نہ رکھا گیا۔ان کے ناک کان وغیرہ کاٹے گئے اور یہ سب کچھ خدا کی عزت و عظمت کو قائم کرنے کے لئے کیا گیا۔چنانچہ فاضل جوں کی رائے میں ۶ / مارچ ۱۹۵۳ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں سینٹ بار تھولومیوڈے کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ :۔لے انسانوں کے بڑے بڑے مجمعوں نے جو معمولی حالات میں معقول اور سنجیدہ شہریوں پر مشتمل تھے ایسے سرکش اور جنون زدہ ہجوموں کی شکل اختیار کر لی تھی جن کا واحد جذ بہ یہ تھا کہ قانون کی نافرمانی کریں اور حکومت وقت کو جھکنے پر مجبور کر دیں۔اس کے ساتھ ہی معاشرے کے ادنی اور ذلیل عناصر موجودہ بدنظمی اور ابتری سے فائدہ اٹھا کر جنگل کے درندوں کی طرح لوگوں کو قتل کر رہے تھے۔ان کی املاک کولوٹ رہے تھے اور ۱۹۵۳ء کے فسادات کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۷۱