مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 126

مذہب کے نام پرخون فسادات کا مقصد اور طریق کار بدقسمتی سے اس زمانہ کے بعض علماء کے دلوں میں ایسی سختی آچکی ہے کہ وہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار رحمت اور شفقت، ہمدردی اور خلوص کے ان جذبات سے بالکل عاری ہو چکے ہیں جو ہر سچے مذہب کی روح رواں ہوا کرتے ہیں۔یہاں نام بنام ایسے تمام علماء کے مذہبی تصورات کی تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔یہ علماء جب ان ذاتی نظریات کو اسلام کی طرف منسوب کر کے لاعلم عوام میں پھیلاتے ہیں تو ہر طرف فتنہ وفساد اور شرانگیزی کا ایک طوفان بے تمیزی برپا ہو جاتا ہے۔۱۹۵۳ء کا سال پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک تاریک سال کے طور پر لکھا جائے گا۔یہ وہی سال ہے جب کہ بعض دینی علماء کو اپنے دینی افکار کو عملی جامہ پہنانے کا خوب دل کھول کر موقع ملا تھا۔ان کا اسلامی تصور جو پہلے ان کے سینوں کی کوٹھڑیوں میں مقید تھا اور ملکی قوانین کی زنجیروں میں پابند رہا کرتا تھا ان سب قیدوں سے آزاد ہو کر اور انسانیت اور تہذیب اور شرافت کے سب بندھن توڑ کر میدان عمل میں آیا۔وہ پنجاب کے طول و عرض میں قریہ قریہ پھرنے لگا۔ابتداء مچھپ چھپ کر دن کی روشنی سے گھبراتا ہوا، قانون کی زد سے بدن چراتا ہوا، پھر رفتہ رفتہ کھلتے کھلتے بے باک ہوتا چلا گیا اور مختلف قصبات اور شہروں کے گلی کوچوں میں آزادانہ دندنانے لگا یہاں تک کہ ۶ / مارچ ۱۹۵۳ء کا وہ دن آ گیا جو سال کا سب سے تاریک دن تھا۔اگر دن کے پردہ میں کبھی کوئی رات طلوع ہوئی ہے تو یہ وہی رات تھی جو دن کا لبادہ اوڑھے ہوئے چلی آئی تھی۔اگر کبھی سورج نے نور کی بجائے ظلمات کی بارش کی ہے تو یہ وہی سورج تھا جو تاریکیاں بکھیر تا ہوا افق مشرق سے سراٹھارہا تھا۔یہ نور کی کرنیں نہیں تھیں بلکہ درد و الم کے تیر تھے۔یہ آسمان سے اتر نے والی ضیاء بارشعاعیں نہیں تھیں