مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 239

مضامین ناصر — Page 86

۸۶ اطاعت نظام روحانی ہو یا مادی، دینی ہو یا دنیاوی اطاعت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔اطاع وہ شیرازہ ہے جس سے پراگندہ موتی ایک خوبصورت ہار کی شکل اختیار کرتے ہیں۔اس کے بغیر اجتماعی ترقیات ناممکن الحصول ہیں۔أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم (النساء: ۶۰)۔ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روحانی مدارج حاصل کرتے ہیں اور اولوالامر کی اطاعت سے قوم میں دنیاوی شان وشوکت پیدا ہوتی ہے۔اور اطاعت رسول ہر دو کے لئے ضروری ہے۔جس کے بغیر نہ ہم خدا کی اطاعت کر سکتے ہیں اور نہ اولوالامر کی حقیقی فرمانبرداری۔اللہ تعالیٰ یہ اپنے ہر بندے پر نازل نہیں کرتا۔مگر وہ اپنے ہر بندے کے لئے اپنے رسول کے ذریعہ أَوَامِرُ نَوَاهِی ضرور بھیجتا ہے جن پر کار بند ہو کر قرب الہی کے دروازے کھلتے ہیں۔اولوالامر کی اطاعت بھی دنیا میں حقیقی ترقیات کا باعث تب ہی بن سکتی ہے جب وہ رسول کی ہدایت کے ماتحت ہو۔پس اطاعت رسول کے بغیر دینی و دنیاوی ترقیات میں رشتہ قائم نہیں رہ سکتا اور ضلالت اور غضب الہی کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔اسلام نے اسی لئے اطاعت و فرمانبرداری پر بار بار اور تاکید کے ساتھ زور دیا ہے۔مگر اطاعت اس کا نام نہیں کہ ڈنڈا ہمارے سر پر ہو اور ہم کہا مانتے جائیں۔اس قسم کی اطاعت تو ایک گدھا بھی کرتا ہے۔پھر انسان اور گدھے میں فرق ہی کیا رہا۔اطاعت تو اس کا نام ہے کہ فرمانبرداری میں لذت اور سرور حاصل ہو اور تنہائی کی گھڑیاں بھی ہمیں خائن اور باغی ثابت نہ کریں۔فرمانبرداری تو اسے کہتے ہیں کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہہ نکلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر بچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نو ر اور روح