مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 239

مضامین ناصر — Page 85

۸۵ پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دکھ ہو گا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا۔اس لئے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں۔اور یہ بات پہنچا دوں آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سنے یا نہ سنے کہ اگر کوئی حیات چاہتا ہے اور حیات طیبہ اور ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی میری موت میری قربانیاں میری نماز یں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھے۔اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ۔جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا۔خدا میں ہو کر نہیں مرتا۔وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔تم دیکھتے ہو۔کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں۔پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو خدا کے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔“ ( ملفوظات) پس میں انگریزی دان و عربی دان نو جوانوں سے جو قیادت کی اہلیت رکھتے ہوں اور تقریر کا ملکہ ان میں ہو۔پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدم پر قدم ماریں اور جہاں ہم میں سے بعض احمدیت کے بعض دوسرے شعبوں کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔وہاں ایک جماعت خدام الاحمدیہ کے لئے زندگی وقف کرنے والی بھی ہو۔مصلح موعود تیز روامام ہے۔ہمیں شست گام نہیں ہونا چاہیے۔زندگی وقف کرنے میں دیر نہ لگانی چاہیے۔تاہم اپنے نئے دور کے پروگرام کو ابتدا ہی سے مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر سکیں۔إِنْشَاءَ اللَّهُ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ۔خاکسار۔مرزا ناصر احمد صدر مجلس خدام الاحمدیہ روزنامه الفضل قادیان دارالامان مورخه ۲۷ /جنوری ۱۹۴۶ء صفحه ۳) ☆ ☆☆