مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 239

مضامین ناصر — Page 3

بچ کر اپنے آپ کو نمونہ نہ بنائیں اس وقت تک دلائل بالکل بے اثر اور سمجھانا بالکل فضول ہو گا جس وقت تک کہ ہمارے چہروں پر نور نہ چمکتا ہو اور ہمارے اخلاق اعلیٰ اور اسلام کے مطابق نہ ہوں۔اس وقت تک دلائل کارآمد نہیں ہو سکتے۔اگر ہمارے اندرا خلاق فاضلہ نہ ہوں اور روحانیت نہ پائی جائے تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ تم نے اسلام کو قبول کر کے وہ کونسی بات حاصل کی جو مجھ میں نہیں ہے اور وہ کونسی شے ہے جسے تم نے اسلام سے حاصل کیا ہے؟ اور میرامذہب مجھے وہ شے نہیں دے سکتا۔آخر اسلام میں کوئی فضیلت پائی جاتی ہو تو میں اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام قبول کروں۔پس سب سے پہلی بات جو ایک مبلغ یا یوں کہو کہ ایک احمدی کے اندر ہونی ضروری ہے وہ اخلاق فاضلہ اور روحانیت ہے تا وہ اشاعت اسلام کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکے۔دوم۔یہ کہ صرف اخلاق فاضلہ سے بھی کوئی نہیں مانا کرتا بلکہ اخلاق فاضلہ کے ساتھ دلائل و براہین کی بھی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے قبول کرنے والوں میں بھی ایک حد تک اخلاق پائے جاتے ہیں۔اگر صرف اخلاق ہی کسی مذہب کی سچائی پر دال ہوں تو حق و باطل میں فرق کرنا مشکل ہو جائے۔کیونکہ اخلاق کی باریکیوں کو سمجھنا ہر ایک کا کام نہیں۔پس دلائل کا وجود بھی ضروری ہے لیکن کوئی بات اثر نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ دل سے نہ نکلی ہو اور محبت سے بھر پور نہ ہو جو کلمہ دل سے نکلے۔وہ دل پر ہی بیٹھتا اور اثر کرتا ہے اور جو صرف زبان سے کہا جائے۔وہ ایک کان میں پڑتا اور دوسرے کان سے بغیر اثر کئے نکل جاتا ہے۔محبت ہی سے دلوں کے قلعے فتح کئے جا سکتے ہیں۔پس دوسری بات جو ایک احمدی کے لئے ضروری ہے۔وہ یہ ہے کہ تبلیغ کرتے وقت اس کا لفظ لفظ درد میں ڈوبا ہوا اور محبت سے معمور ہونا چاہیے۔تا اس کی دلیل کارگر ہو اور اس کی محنت رائیگاں نہ جائے۔سچائی اپنا اثر پیدا کرے۔مخاطب ہلاکت سے بچ جائے اور وہ بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائے اور خدا کے فضلوں کا وارث بنے۔سوم۔یہ کہ ہر احمدی کو دیوانہ وار تبلیغ کرنی چاہیے۔یہ دیوانگی ہی ہے جس سے انسان کا میاب ہوسکتا ہے۔تم تبلیغ کرتے ہی چلے جاؤ خواہ دوسرا مانے یا نہ مانے۔تم کہتے ہی چلے جاؤ۔خواہ دوسرا انکار