مضامین ناصر — Page 4
ہی کرتا رہے۔خواہ مخاطب کا دل پتھر جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو؟ خواہ تمہارے محبت بھرے دلائل پانی کی مانند ہی نرم کیوں نہ ہوں۔مگر آخر پانی بھی تو ایک پتھر پر بار بار گرتے رہنے سے اسے گھسا دیتا ہے۔پھر کیا تمہاری بار بار کی تبلیغ اس کے دل پر اثر نہ کرے گی۔یقیناً اثر کرے گی۔اور ایک دن وہی دل جو پتھر کی طرح تھا۔تمہارے آگے موم کی مانند نرم ہو جائے گا اور وہ سرکش روح جو کسی طرح بھی قابو نہ آتی تھی۔تمہاری محبت بھری تبلیغ کے سامنے اطاعت کی گردن جھکا دے گی۔دیکھو! خدا تعالیٰ کے رسولوں میں بھی اس قسم کی دیوانگی پائی جاتی تھی اور اسی وجہ سے کافران کا نام مجنون رکھتے تھے۔اور کہتے تھے کہ (نعوذ باللہ ) یہ مجنون و دیوانہ ہیں۔اپنی دھن میں ہی ہر وقت لگے رہتے ہیں۔اور ہر وقت اپنا راگ گاتے رہتے ہیں۔لوگوں کی مارلوگوں کا گالی دینا ان کو اپنے کام سے روکتا نہیں۔وہ اپنے ہی کام میں ہر وقت مست رہتے ہیں۔اور اعلائے کلمتہ اللہ میں محو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدا نفسی کے حالات زندگی پر نظر ڈالو۔ایک واحد تن تنہا شخص اٹھا جو اپنی قوم کے مذہب کے خلاف مذہب رکھتا تھا اور ایک معمولی اختلاف نہیں بلکہ بعد المشرقین کا اختلاف اور دن رات جیسا فرق اس کے اور اس کی قوم کے مذہب میں تھا۔وہ ایک تھا۔تمام قوم اس کے مخالف تھی۔وہ کمزور تھا۔قوم مضبوط تھی مگر باوجود اس کے پھر بھی وہ کامیاب وکامران ہوا۔وہ جو بالکل تن تنہا تھا چند دن کے بعد ایک عظیم الشان جماعت کا آقا وسردار نظر آیا۔وہ کیا شے تھی جس نے یہ تغیر پیدا کیا؟ وہ یہی خدا کے عشق کی مخموریت اور اس کے نام کا جنون تھا۔پس اس دیوانگی سے ہی ہم بھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر سکتے اور تبلیغ کے فرض کو پوری طرح ادا کر سکتے ہیں۔دنیا میں بیداری کی ایک رو پھیل رہی ہے۔دنیا کا ہر مذہب دنیا کی ہر قوم خواہ وہ عیسائی ہو کہ ہندو مسلم ہو کہ سکھ۔حتی کہ چوہڑے بھی بیداری کی طرف آرہے ہیں۔دنیا کا ہر فرد بشر حق کا متلاشی اور سچائی کا خواہاں نظر آتا ہے۔انسانوں کے قلوب کو خدا تعالیٰ کے فرشتے ہلا رہے ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی بچے مذہب میں داخل ہو کر خدا تعالیٰ کے قرب کو حال کریں۔پس اُٹھو! اُٹھو! اور اس زریں موقع کو غنیمت سمجھو۔کمریں کس لو۔اور مالی و جانی قربانی کرنے